گورنمنٹ وہپ بھانو پرساد کا مطالبہ ، فنڈس پر کھلے مباحث کا چیلنج
حیدرآباد ۔4 ۔ فروری (سیاست نیوز) گورنمنٹ وہپ ٹی بھانو پرساد نے بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن کو چیلنج کیا کہ وہ مرکز سے تلنگانہ کو فنڈس کی اجرائی کے لئے دباؤ بنائے اور پھر ٹی آر ایس پر تنقید کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھانو پرساد نے ڈاکٹر لکشمن کی جانب سے کے ٹی آر کو تنقید کا نشانہ بنانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر کس عہدہ کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کر رہے ہیں ، اس پر عوام کو شبہات ہیں۔ ڈاکٹر لکشمن کی میعاد ختم ہوچکی ہے اور وہ دوبارہ اس عہدہ پر برقراری کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کے ٹی آر کو غزنی قرار دینے پر تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی قائدین کو عوامی فلاح و بہبود کی نہیں بلکہ فلم ایکٹرس سے دلچسپی ہے ۔ بھانو پرساد نے کہا کہ مرکز سے فنڈس کے حصول کیلئے کے ٹی آر نے کبھی بھی دفاعی موقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھانو پرساد نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی لیکن بی جے پی قائدین خاموش ہیں۔ اگر بی جے پی کو تلنگانہ کی ترقی سے دلچسپی ہوتی تو اس کے قائدین مرکزی بجٹ پر نکتہ چینی کرتے ۔ بھانو پرساد نے کہا کہ کے ٹی آر پر تنقید کا مقصد اپنی کرسی کو بچانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرض کے حصول کے معاملہ میں تلنگانہ ایف آر بی ایم حدود کے تحت کام کر رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ قرض کے حصول میں تلنگانہ نے مقررہ قواعد کی تعمیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے قرض مقررہ حدود کو پار کرچکے ہیں۔ معاشی صورتحال سے نمٹنے کے معاملہ میں مرکز کی پالیسی عوام کیلئے خوشحالی کا سبب نہیں بن سکتی ۔ بھانو پرساد نے ڈاکٹر لکشمن سے کہا کہ مرکزی فنڈس کے معاملہ میں کے ٹی آر کو کھلے مباحث کا چیلنج کرنے سے پہلے وہ ان سے مباحث کیلئے تیار ہوجائیں۔ کے ٹی آر کی ضرورت نہیں ہے، مجھ سے مباحث کے لئے لکشمن وقت اور تاریخ کا تعین کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں بی جے پی کی طاقت کا عوام کو اندازہ ہوچکا ہے۔ حضور نگر ضمنی انتخاب اور پھر بلدی انتخاب میں بی جے پی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھانو پرساد نے کہا کہ سابق میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ کو مرکز سے فنڈس کی اجرائی کا دعویٰ کیا تھا لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے جیسے ہی مباحث کا چیلنج کیا تو وہ فرار کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ایک طرف مرکزی وزراء تلنگانہ کی اسکیمات کی ستائش کر رہے ہیں تو دوسری طرف ڈاکٹر لکشمن اپنی کرسی بچانے کے لئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ لکشمن اس بات کو فراموش کرچکے ہیں کہ مشن بھگیرتا کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ پر تفصیلی رپورٹ کے بغیر بینک کس طرح قرض منظور کرتے ہیں۔ بینکوں اور مرکزی حکومت کو پراجکٹ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ روانہ کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے لئے فنڈس کے علاوہ کالیشورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کے لئے مرکز سے نمائندگی کی گئی لیکن مرکزی بجٹ میں کوئی تذکرہ شامل نہیں ہے۔