مرکز نے سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کے لیے نئے اصول جاری کیے، عدم تعمیل پر 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ

   

نئی دہلی:حکومت نے سوشل میڈیا کے ‘اثراندازوں’ کے لیے مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کے دوران اپنی ‘مادی وابستگیوں’ اور دلچسپیوں کو ظاہر کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اشتہار پر پابندی لگانے جیسے سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے یہ رہنما خطوط گمراہ کن اشتہارات کو روکنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔ یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ 2025 تک سوشل میڈیا ‘اثرانداز’ مارکیٹ تقریباً 2,800 کروڑ روپے ہونے کا اندازہ ہے۔جو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی مصنوعات یا خدمات کے بارے میں اپنی رائے رکھ کر عوام کو متاثر کرتے ہیں انہیں ‘اثرانداز’ کہا جاتا ہے۔ صارفین کے امور کے محکمے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مشہور شخصیات، ‘اثراندازوں’ اور ‘آن لائن میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں’ کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کی خلاف ورزی کی صورت میں، گمراہ کن اشتہارات کے لیے مقرر کردہ جرمانہ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کے تحت عائد کیا جائے گا۔