مرکز نے پارلیمنٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کا اعتراف کرلیا

   

ملک میں 157 نئے میڈیکل کالجس کی منظوری، تلنگانہ کو ایک بھی کالج نہیں دیا گیا
حیدرآباد: مرکزی حکومت نے گزشتہ 6 برسوں میں تلنگانہ میں ایک بھی میڈیکل کالج قائم نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے 2014 ء کے بعد سے 5 نئے میڈیکل کالجس قائم کئے ۔ تلنگانہ حکومت مرکز کے رویہ کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے اور پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت نے اپنے جواب میں تلنگانہ کو نظر انداز کرنے کا اعتراف کیا ۔ مرکز نے ایک بھی میڈیکل کالج منظور نہیں کیا ، اس کے علاوہ ٹریپل آئی ٹی اور قبائلی یونیورسٹی بھی قائم نہیں کی گئی جس کا وعدہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں کیا گیا تھا ۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن اور مملکتی وزیر اشونی کمار نے ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ کے آر سریش ریڈی اور بی جے پی رکن جی وی ایل نرسمہا راؤ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ مرکزی حکومت نے مرکزی اسپانسرڈ اسکیم کے تحت 157 نئے میڈیکل کالجس کی منظوری دی ہے۔ یہ کالجس تین مراحل میں مکمل کئے جائیں گے ۔ ہر میڈیکل کالج پر 189 کروڑ کا خرچ آئے گا جس میں مرکزی حکومت کی حصہ داری 90 فیصد رہے گی جبکہ باقی فنڈس ریاستی حکومت کو ادا کرنے ہوں گے۔ مرکز نے اترپردیش کے لئے 27 میڈیکل کالجس کی منظوری دی ہے جبکہ آندھراپردیش کے لئے تین کالجس منظور کئے گئے ۔ تلنگانہ کیلئے ایک بھی کالج کی منظوری نہیں دی گئی۔ گزشتہ تین برسوں میں 90 خانگی میڈیکل کالجس منظور کئے گئے جن میں سے 3 کا تعلق تلنگانہ سے ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں تلنگانہ میں ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافہ کے لئے مرکز نے فنڈس جاری نہیں کیا ۔ متحدہ آندھراپردیش میں گزشتہ 65 برسوں کے دوران تلنگانہ علاقوں میں پانچ گورنمنٹ میڈیکل کالجس قائم کئے گئے تھے لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے پانچ نئے میڈیکل کالجس قائم کئے جو سوریا پیٹ ، محبوب نگر ، نلگنڈہ ، سدی پیٹ اور عادل آباد میں ہیں۔ یہ تمام کالجس مرکز کے تعاون کے بغیر قائم کئے گئے ہیں۔ ریاست میں فی الوقت 34 میڈیکل کالجس ہیں جن میں 11 سرکاری اور 23 خانگی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے حالیہ عرصہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔