مرکز و ریاستی حکومتوں کی بے شمار اسکیمات سے مسلمان ناواقف

   

l بناء ضمانت 10 لاکھ روپئے تک قرض کی مدرا اسکیم سے بھی عدم استفادہ
l ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس کی بھی مجرمانہ غفلت

حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : ملک کی اقلیت بالخصوص مسلمان تعلیمی ، معاشی ، سیاسی شعبوں میں انتہائی پسماندہ ہیں ۔ ملازمتوں میں بھی ان کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تجارتی محاذ پر بھی مسلمانوں کا وجود برائے نام ہے ۔ جہاں تک بنکوں کا سوال ہے یہ بات بناء کسی جھجھک کے کہی جاسکتی ہے کہ بنکس خاص طور پر مسلمانوں کو قرض دینے سے گریز کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بنکس چاہے وہ ایس بی آئی ہی کیوں نہ ہو مسلمانوں کو قرض دینے سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں ۔ اس معاملہ میں جہاں مسلمانوں کی اپنی غفلت و لاپرواہی ذمہ دار ہے وہیں مسلم سیاسی قائدین بشمول ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی مجرمانہ غفلت و بے حسی بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے ۔ اگر عوام اپنی تعلیمی پسماندگی کے باعث مرکز و ریاستوں کی بہبودی اسکیمات سے واقف نہیں ہوتے ہیں تو یہ ارکان اسمبلی و ارکان پارلیمان یعنی عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو مرکزی و ریاستی اسکیمات سے نہ صرف واقف کروائیں بلکہ استفادہ بھی کروائیں ورنہ ان لوگوں کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بھیجنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ۔ بہر حال آج بڑا افسوس ہوتا ہے کہ مرکزی و ریاستی سطح پر اقلیتوں کی بہبود کے لیے بے شمار اسکیمات موجود ہیں لیکن مسلمان تو دور مسلم ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس شائد ان اسکیمات سے واقف نہیں ہیں ۔ اگر آج مسلمانوں سے ان اسکیمات کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ صرف مرکز کی پری میٹرک اسکالر شپ اسکیم اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیم کے بارے میں ہی اثبات میں جواب دیں گے ۔ مسلم طلباء وطالبات بڑی مشکل سے ان دو اسکیمات سے ہی استفادہ کرتے ہیں ۔ جب کہ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر بھی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے ۔ اس پروگرام کا مقصد ملک کے مختلف مقامات پر حکومت کے بے شمار اسکیمات کے تحت اقلیتوں کے ضرورت مند طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت ترقیاتی اسکیمات کا 15 فیصد فنڈ اقلیتوں کے لیے مختص کرنے کی بھی بات کی گئی ہے ۔ ساتھ ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو مختلف اقدامات کے تحت یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی 15 نکاتی پروگرام میں سرکاری ، بشمول پبلک سیکٹر میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دینے کے لیے بھی کہا گیا ہے ۔ جی او میں جو 27-11-2014 کو جاری کیا گیا اس میں ریاستی سطح کی کمیٹی اور ضلعی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی لیکن آج تک ریاستی سطح کی کمیٹی نہیں بنائی گئی کچھ اضلاع میں کمیٹیاں بنائی گئیں لیکن اجلاس طلب نہیں کئے گئے ۔ وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر عمل آوری کے لیے مختلف موقعوں پر چیف سکریٹری ، سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود یہاں تک کہ ریاستی اقلیتی کمیشن کے ساتھ مرکزی اقلیتی کمیشن سے بھی بالترتیب 21-2-2015 ، 27-10-2015 ، 17-5-2017 ، 28-7-2018 اور 6-9-2019 کو نمائندگیاں پیش کی گئیں جس پر ہنوز کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس تغافل کے لیے ہمارے ریاستی وزراء بھی ذمہ دار ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا حکومت تلنگانہ کو 18-07-2018 کو مرکز نے ایک میمو روانہ کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ وہ عادل آباد ، کھمم ، کریم نگر ، رنگاریڈی اور محبوب نگر میں اس پروگرام پر عمل آوری کریں ۔ اس کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے عوام کو پردھان منتری مدرا MUDRA ( Micro units Development and Refinance Agency ) یوجنا یا اسکیم کے بارے میں بھی کچھ اطلاع نہیں ہے ۔ یہ اسکیم دراصل چھوٹے پیمانے کی صنعتوں یا اداروں کو فروغ دینے کی خاطر شروع کی گئی اور اس اسکیم کے تحت خاص کر اقلیتوں کو بناء کسی شوریٹی یا ضمانت کے 10 لاکھ روپئے تک قرض دیا جاتا ہے ۔ ایس بی آئی جیسے بنکس MUDRA یوجنا کے تحت قرض دینے سے انکار نہیں کرسکتے ۔ مرکزی حکومت نے MUDRA یوجنا کے لیے 20 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ دوسری جانب مسلم اقلیت میٹرک کم مینس اسکالر شپ اسکیم ، مولانا آزاد نیشنل فیڈریشن فیلو شپ (MANF) ، پڑھو پردیش ، فری کوچنگ اینڈ الائیڈ اسکیم ، نئی اڑان ، سیکھو اور کماؤ ، استاد ، نئی منزل ، مولانا آزاد نیشنل اکیڈیمی آف اسکیلس MANAS ، NMDFC کے ذریعہ رعایتی کریڈٹ ، نئی روشنی ، خواجہ غریب نواز اسکیل ڈیولپمنٹ ٹریننگ فار مینارٹیز جیسے اسکیمات سے بھی استفادہ نہیں کررہے ہیں ۔ اس کے لیے مسلمانوں کو جلد بیدار ہونے کی ضرورت ہے ورنہ شکوہ شکایت سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔۔