مرکز و ریاست میںبی جے پی حکومتیں ڈبل انجن نہیں ’ ٹربل ‘ انجن سرکار

   

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا الزام ۔ اسمبلی میں تصرف بل مباحث پر جواب
حیدرآباد۔15مارچ(سیاست نیوز) قومی سطح پر جو ڈبل انجن کا نعرہ دیا جا رہاہے وہ دراصل ’ٹربل(مشکل) انجن سرکار چلائی جا رہی ہے جبکہ حقیقت میں ڈبل انجن ترقی جاری ہے۔ چیف منسٹر نے آج اسمبلی میں تصرف بل پر جواب میں کہا کہ ملک میں ڈبل انجن سرکار کا نعرہ چل رہا ہے تو ڈبل انجن کی ترقی کا بھی مشاہدہ کیا جانا چاہئے ۔انہو ںنے تلنگانہ کی ترقی کے اعداد شمار اور حوالہ دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور مرکز میں ایک ہی جماعت کی حکومت کو ڈبل انجن کہا جا رہاہے جبکہ اترپردیش میںفی کس آمدنی 71ہزار ہے جبکہ تلنگانہ میں ڈبل انجن گروتھ میں 2.87 لاکھ فی کس آمدنی ہے ۔ ریاست کی شرح ترقی کے معاملہ میں تلنگانہ 10 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ اترپردیش 7.26 پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اترپردیش میں 2015کے دوران ڈبل انجن کی شروعات ہوئی اور 2017 سے 2021 کے درمیان اترپردیش کے ڈبل انجن کی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو 25.69 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تلنگانہ میں اس مدت کے دوران شرح ترقی 55.46 ریکارڈ کی گئی ہے۔ یو پی کی ڈبل انجن حکومت تلنگانہ کی ترقی کا نصف بھی عبور نہیں کر پائی جبکہ تلنگانہ نے ڈبل انجن گروتھ کی کئی مثالیں قائم کی ہیں۔ یو پی میں زچگی کے دوران فوت ہونے والی ماؤں کی تعداد ایک لاکھ میں 167 ہے جبکہ تلنگانہ میں یہ شرح صرف 56 ہے۔انہو ںنے پیدائش کے ساتھ ہی فوت ہونے والے بچوں کی شرح اترپردیش میں 41ہے جبکہ تلنگانہ میں ایک لاکھ میں 23 بچے فوت ہوتے ہیں۔چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کسی کو نقصان پہنچائے بغیر ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کررہی ہے اور حکومت کی جانب سے ریاست کی ممکنہ ترقی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چندر شیکھر راؤ نے ڈبل انجن سرکار کے بجائے ریاست میں ڈبل انجن گروتھ کی تفصیلات پیش کرنے کے دوران مرکزی حکومت کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کی ترقی میں بالواسطہ طور پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔م