حیدرآباد۔3اگسٹ (سیاست نیوز) مرکز وریاست کی معاشی ابتری کے سبب ملک کے حالات میں کوئی بہتری ریکارڈ نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ ریاستی ومرکزی حکومتوں کی توجہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے سے زیادہ ریاست و مرکز کے خزانہ میں پائے جانے والے بحران کو دور کرنے پر ہے۔CRISIL کی جانب سے کئے گئے مطالعہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہوتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے شرح سود میں کمی کرتے ہوئے سرکاری اسکیمات کے لئے پیسہ بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی معاشی حالت ابتر ہے اور وہ اسے بہتر بنانے کے متعلق اقدامات میں مصروف ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق نقدی نظام میں لائی جانے والی سختی اور نقد کے لین دین پر لگائی جانے والی پابندی کے سبب حالات میں یکسرتبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں جس کے سبب یہ کہا جا رہاہے کہ نقد کے لین دین کی شروعات کے ذریعہ ہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے لیکن حکومت کا یہ ماننا ہے کہ نقد لین دین میں رعایت نہ دیئے جانے اور شرح سود میں بتدریج گراوٹ کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران کے اثرات وقتی ہیں اور ان کا فائدہ طویل مدتی ہوگا لیکن گذشتہ 14برسوں کے دوران معاشی ابتری کی جو حالت اب ریکارڈ کی جا رہی ہے اس حالت کے لئے ان اقدامات کو ذمہ دار قرار دیا جانا درست نہیں ہے۔ حکومت کے گوشوں کی جانب سے کئے جانے والے دعوؤں کو معاشی ماہرین کی جانب سے مسترد کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت اپنے معاشی بحران کو دور کرنے کیلئے جو اقدامات کررہی ہے اس کے منفی اثرات عوامی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔معاشی ماہرین کے دعوؤں اور CRISIL کے مطالعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ریاستی ومرکزی حکومتیں اپنے مالیاتی خسارہ کی پابجائی کے لئے عوامی دولت کو بینکو ںمیں محفوظ کرتے ہوئے استعمال کر رہے ہیں جس کے سبب بینکوں میں بھاری رقومات جمع ہیں اور ان پر شرح سود کو کم کیا جا رہاہے تاکہ بینکوں کو خسارہ سے بچایا جاسکے لیکن بینک میں سرمایہ کو محفوظ رکھنے کیلئے نقد لین دین کے معاملوں میں راحت فراہم نہیں کی جا رہی ہے جو کہ عام شہریوں کے لئے اور ملک کی معیشت کے لئے نقصاندہ ثابت ہونے لگی ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ریاست اور مرکز کے مالیاتی خسارہ کو منظر عام پر لایا نہیں جا رہاہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ خسارہ میں 2013سے 2019 کے درمیان کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن حکومتوں کی جانب سے قرض کو جوں کاتوں رکھتے ہوئے بھی فاضل بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حکومت عوام کی بہتر خدمت کے موقف میں ہے۔