حیدرآباد : تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے الزام لگایا ہے کہ مرکز جنوبی ہند کی ریاستوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر رہا ہے، یہاں تک کہ فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے موقع پر تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کو بھی مرکز نے نظرانداز کردیا ہے ۔ سکھیندر ریڈی نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر سیاحت کشن ریڈی جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے ،ریاست کے مفادات کو صرف نظر کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دستور سے متعلق وزیراعلی کے ریمارکس پر بی جے پی واویلا مچارہی ہے ۔انہوں نے یاددہانی کرواتے ہوئے کہاکہ ماضی میں کئی بار آئین کا جائزہ لیا گیا تھا۔ دستور سے متعلق وزیراعلی نے جو کچھ بھی کہا ہے اس میں کیا غلط بات ہے ۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ اگر اس میں ہمت ہے تو وہ بیارام اسٹیل پلانٹ ریاست میں قائم کروائے اور آبپاشی کے پانی کے منصوبوں کو قومی درجہ دلانے کے ساتھ ساتھ ریاست میں ٹرائبل یونیورسٹی کے قیام کو یقینی بنائے ۔سکھیندر ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کا کام سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرناہے ۔ بی جے پی کے دور حکومت میں امبانی اور اڈانی کے علاوہ کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی دور اندیشی سے تلنگانہ تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے ۔