تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے اثر کو روکنے چیف منسٹر کی سیاسی حکمت عملی تو نہیں !؟
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدم کو روکنے کیلئے کے سی آر کی سیاسی حکمت کا آغاز ہوچکا ہے۔ بلدی نتائج کے فوری بعد دہلی کا رُخ کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ نے اپنے سیاسی حربوں کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اپنی سیاسی بصیرت اور مخالفین کو ناکام بنانے کیلئے مضبوط حکمت عملی کیلئے منفرد شناخت رکھنے والے کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں زعفرانی پرچم کو کمزور کرنا شروع کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے دورہ دہلی کے بعد ریاست کے بی جے پی کیڈر میں عجیب خاموشی چھا گئی ہے۔ کل تک اپنی سرگرمیوں سے پریشان کرنے والے بی جے پی کیڈر کو کے سی آر نے اُلجھن کا شکار بنادیا جو کے سی آر کی حکمت عملی کا وار ہوسکتا ہے یا پھر بی جے پی قیادت سے کوئی اندرونی معاہدہ چونکہ جارحانہ تیور اختیار کرنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر اچانک خاموش ہوگئے ہیں۔ اب ریاست میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانا یا پھر حکومت کا ساتھ دینا یا پھر حکومت کی بالراست حمایت کرنا بی جے پی کیڈر اس معاملہ میںالجھن کا شکار ہے۔ دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں شاندار کامیابی اور اسی جوش و جذبہ کے ساتھ گریٹر حیدرآباد کے بلدی نتائج میں شاندار مظاہرہ نے بی جے پی کیڈر کے حوصلے بلند کردیئے تھے اور اب وہ عام انتخابات کیلئے ہر ضمنی چناؤ کی طرف متوجہ تھے تاہم اچانک ان میں خاموشی چھاگئی ہے اور بی جے پی نے ریاست آندھرا پردیش کی طرف اپنا رُخ کرلیا ہے۔ شمالی ہند طرز کے بیانات اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے والی اپنی روایتی پالیسی اب آندھرا پردیش میں اپنائی جانے لگی ہے۔ گذشتہ روز بنڈی سنجے نے تروپتی میں آندھرائی عوام سے مخاطب ہوکر کہا کہ اب ان کا ذمہ ہے کہ انہیں بائبل پارٹی چاہیئے یا بھگوت گیتا پارٹی ۔ جنوبی ہند اس طرح کے بیانات اور تقسیم والی پالیسیوں سے ابھی تک پاک رہا ہے جہاں علاقائی جماعتوں کا اثر ہے ۔ کے سی آر کی حکمت عملی ریاستی بی جے پی کیڈرکیلئے پریشانی کا سبب بن گئی اور انہیں روکنے میں کامیاب تو ہوگئے۔ تاہم اس اچانک ہوئی سیاسی تبدیلی نے تلنگانہ کے مسلمانوں میں بھی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ کل تک بی جے پی کی مخالفت کرنے والے کے سی آر نے آج اچانک اپنا رُخ بدل لیا اور مرکز کی تمام اسکیمات کی کل تک ان کی مخالفت کررہے تھے اب ان پر عمل آوری کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی کو روکناکے سی آر کیلئے اہم عمل ہوسکتا ہے یا پھر عام انتخابات کیلئے کیا گیا کوئی معاہدہ ہے۔ بہر حال بی جے پی کیڈر کا جوش تو فی الحال ٹھنڈا ہوگیا اور بی جے پی کیڈر میں اس بات کا بھی خوف ہے کہ پارٹی ہائی کمان کہیں کے سی آر کی سیاسی چال کا شکار تو نہیں ہوگیا۔ چونکہ مخالفین کو شکست دینے اور اپنی کامیابی کیلئے کے سی آر کسی بھی وقت سیاسی پانسہ پلٹ سکتے ہیں اور ان کی اسی سیاسی چال ، سیاسی بصیرت سے مخالفین کو ہمیشہ خوف رہتا ہے اور بی جے پی بھی اسی خوف کا شکار ہے۔