مرکز کی ’ بندر بھپکیوں ‘ سے ہرگز خوف زدہ نہ ہوں : ظہیر الدین علی خاں

,

   

Ferty9 Clinic

ملک کی سالمیت کے لیے طلبہ بھی آگے آئیں اور احتجاج کا حصہ بنیں ، محبوب نگر میں جلسہ عام سے منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کا خطاب

محبوب نگر ۔ 4 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : مرکزی حکومت آسام میں این آر سی پر عمل کر کے نتائج سے حواس باختہ ہوگئی اور ایک سازشی منصوبہ تیار کر کے سٹیزن ایمنڈمینڈ ایکٹ قانون تیار کرچکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ہیومن رائٹس کے اہم قائدین پروفیسر اچاریہ ہرا گوپال نے مستقر محبوب نگر کے ایس کنونشن میں جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ اس جلسہ کا اہتمام جے اے سی ، ٹی ایف ٹی یو ، آلمیوا ، پیام انسانیت ، یم آر یو ایف ، پالمورادھیانہ ویدیکا نے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔ بحیثیت مہمان خصوصی انہوں نے کہا کہ این آر سی کو آسام میں نافذ کر کے دیکھا اور اس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہونچانا تھا لیکن تدبیر اُلٹی ہوگئی اور زیادہ تر نقصان دیگر مذاہب کے لوگوں کو ہوا۔ جس سے حواس باختہ ہو کر سی اے اے قانون تیار کیا گیا ۔ انہوں نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کوشاں ہے اگر ان کی سونچ سہی ہے تو کشمیر میں بڑی تعداد میں مسلمان ہیں اس کو کس سے وابستہ کیا جائے ؟ ملک کی تقسیم کے وقت کشمیر کے مسلمانوں نے سیکولرازم کو گلے لگایا ۔ہندوستان کا حصہ بنے رہنے کو پسند کیا ۔ یہاں کے عوام کا سیکولرازم پر ایقان ہے لیکن مرکزی حکومت نفرت اور خوف کا ماحول پیدا کر کے سیکولرازم کے چاہنے والوں کی زندگی تنگ کررہی ہے اور ملک کے حالات کو بگاڑ رہی ہے ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے مزید کہا کہ سبرا ملائی مندر میں خواتین کے داخلہ کے تعلق سے عدالت میں مقدمہ چلا لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ وہ مذہبی عقائد اور معاملات میں دخل نہیں دے سکتی ۔ لیکن اقلیتوں کے معاملات 3 طلاق وغیرہ میں کیوں امتیاز برتا گیا ؟ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی وزارت عظمیٰ کی کرسی بڑی معتبر اور باعزت ہوتی ہے لیکن نریندر مودی مسلسل جھوٹ اور غیر معیاری زبان درازی سے اس کا وقار متاثر کررہے ہیں میں نے اس نوعیت کا وزیراعظم پہلی بار دیکھا ہے ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے اپنی مخاطبت میں کہا کہ مرکزی حکومت اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ تعصب ، فرقہ پرستی اور تنگ نظری کا رویہ اپنائی ہوئی ہے ۔ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی اسکالر شپس کی رقومات میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے تاکہ کوئی اور کنہیا پیدا نہ ہوجائے ۔ انہوں نے جلسہ سے قوم کو پیام دیا کہ وہ مرکز کی ’بندر بھپکیوں ‘سے ہرگز خوفزدہ نہ ہوں بلکہ غیر مسلم سیکولر اور پسماندہ طبقات کے ساتھ معتدل انداز میں جدوجہد استقامت کے ساتھ جاری رکھیں ۔ انہوں نے شاہین باغ کے احتجاج کا حوالہ دیا کہ کس طرح شدید سردی میں معصوم بچوں کے ساتھ خواتین نے احتجاج درج کروایا ۔ گذشتہ 70 برس میں مسلمانوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔

1991
۔ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار واضح اشارہ دیتے ہیں کہ سب سے زیادہ غریب اور پسماندہ مسلمان ہی ہیں جب کہ ملک کا اربوں روپیہ لوٹنے والوں سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں ۔ آج مسلمانوں اور دلتوں کی حالت بُری ہے لیکن حکومت آسام میں این آر سی کے لیے 10 ہزار عارضی ملازمین کا تقرر اور 6500 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے اور اب ملک میں این آر سی کے لیے دیڑھ لاکھ کروڑ کے خرچ کا منصوبہ ہے ۔ بابری مسجد اور این آر سی مسئلوں سے ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اور ملک معاشی دیوالیہ پن کی سمت جارہا ہے ۔ حکومت ناعاقبت اندیشانہ فیصلے کرتے ہوئے ملک کو تباہی کے دہانے پہونچا رہی ہے ۔ منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے پالمور یونیورسٹی کے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ بھی احتجاج کا حصہ بن جائیں اور ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے آگے آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہراگوپال صاحب اور دیگر سیکولر بھائی ہمارے ساتھ ہیں ہمارا احتجاج کمزور نہیں ہوگا ۔ راگھوا چاری صدر پالمورادھیانہ ویدیکا نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہندوستان دنیا بھر میں سیکولرازم اور بھائی چارگی کی ایک مثال ہے اور اسی وجہ سے ہماری عزت بھی ہے ۔ امبیڈکر کو ملک کا دستور تیار کرنے میں ڈھائی سال لگے جو کافی باریکی سے بنایا گیا ۔ ایک ہندو بھائی نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ بل کی مخالفت کیوں کرتے ہیں تو میں نے جواب دیا کہ میں مسلمان ہوں ۔ آج مٹھی بھر فاشسٹ عناصر ملک کو برباد کرنے کوشاں ہیں لیکن ہم متحد ہو کر طاقتور مقابلہ کریں گے ۔ آلمیوا کے ریاستی جنرل سکریٹری شیخ فاروق حسین نے ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ 3 طلاق اور کشمیر مسئلہ پر بی جے پی کا ساتھ دیا اور پارلیمنٹ میں این آر سی کی مخالفت کی ۔ کے سی آر کیوں اپنی ریاست میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر پر عمل آوری نہ کرنے کا اعلان کیوں نہیں کررہے ہیں ؟ عوام ان کی دوغلی پالیسی کو دیکھ رہے ہیں اور مناسب جواب وقت پر دیں گے ۔ جلسہ سے خلیل ، حنیف احمد ، شریمتی وانا مالا و دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ شہ نشین پر مولانا مسیح الرحمن مفتاحی ، عبدالرشید مظاہری ، مظہر شہید ، قاضی غوث محی الدین ، شیخ شجاعت علی ، مولانا عبدالجواد ، فاسٹر سندرپال ، پرمیشور گوڑ ضلع سکریٹری سی پی آئی ، امین الدین قادری اور سامعین میں سید مظہر الدین ، محمد سلیم ایمان کمیٹی ، میر شعیب علی ، طاہر ( کانگریس ) کے علاوہ بڑی تعداد میں عوام موجود تھے ۔۔