راہول گاندھی کا نظریہ اور تلنگانہ کی تقلید: ریونت ریڈی
حیدرآباد۔/30 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت کی جانب سے آئندہ قومی مردم شماری کے حصہ کے طور پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کے انعقاد کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ چیف منسٹر نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مرکزی حکومت کو مبارکباد پیش کی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی کابینہ سے اظہار تشکرکیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس قائد راہول گاندھی نے طبقاتی سروے کا قومی سطح پر انعقاد کرنے کا نظریہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران پیش کیا تھا۔ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے گذشتہ سال ذات پات پر مبنی سروے منعقد کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ1931 میں برٹش حکمرانوں کی جانب سے طبقاتی سروے کیا گیا تھا جبکہ آزاد ہندوستان میں تلنگانہ ریاست نے پہلی مرتبہ طبقاتی سروے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی سماجی، معاشی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ریاست میں 56.32 فیصد آبادی پسماندہ طبقات کی ہے۔ طبقاتی سروے رپورٹ کو بنیاد بناکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے او بی سی طبقات کو تعلیم، روزگار اور عملی سیاست میں 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تلنگانہ کانگریس نے طبقاتی سروے کی جدوجہد کو ملک بھر تک پہنچایا اور نئی دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا منظم کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے قومی سطح پر طبقاتی سروے کا مطالبہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ تلنگانہ نے آج جو کام کیا ملک اس کی تقلید کرتے ہوئے کل اُسے انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے اپوزیشن میں رہنے کے باوجود ملک کو طبقاتی سروے کا نظریہ پیش کیا۔ 1
ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ او بی سی امپاورمنٹ کیلئے تلنگانہ حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں اس سے ملک متاثر ہوا ہے ریاست کی طرح ملک بھر میں طبقاتی سروے کا فیصلہ کیا گیا۔1