مرکز کی جانب سے ٹی ایس آر ٹی سی کو ای ۔ بسوں کے الاٹمنٹ کی عدم مسدودی

   


حیدرآباد :۔ مرکزی حکومت کے فاسٹر ایڈاپشن اینڈ مینوفکچر آف الیکٹرک وہیکلس ( FAME ) کے تحت تلنگانہ کو 324 الیکٹرک بسوں کا الاٹمنٹ ، جسے ریاستی حکومت نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے عروج پر لینے کو مسترد کردیا تھا ، اب بھی ہوسکتا ہے ۔ دہلی سے جاری ایک مکتوب میں یہ بات کہی گئی ۔ ریاستی حکومت نے گذشتہ سال کی آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے دوران ریاست تلنگانہ کو الاٹ کردہ بسوں کو لینے سے انکار کیا تھا کیوں کہ اس نے لوفلور کے ساتھ 40 ایرکنڈیشنڈ الیکٹرک بسوں کی پہلی قسط کے بعد محسوس کیا تھا کہ یہ آر ٹی سی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے کیوں کہ وہ لو ۔ فلور کی وجہ طویل سفر کے لیے موزوں نہیں ہیں ۔ فی الوقت شہر کے مختلف مقامات سے ایرپورٹ کو بسیں چلائی جارہی ہیں ۔ آر ٹی سی ہڑتال کے عروج پر بھی ، آر ٹی سی نان ۔ ایرکنڈیشنڈ الیکٹرک بسیس چاہتی تھی جب کہ ایٹ ٹاپ عہدیدار نے اے سی بسوں پر زور دیا تھا ۔ اس کی وجہ ریاستی حکومت نے الاٹ کی گئی بسوں کو حاصل کرنے کو روک دیا ۔ چونکہ ان بسوں کو حاصل کرنے کی امید کو اب بھی باقی رکھا گیا ہے ۔ اگر مرکز سے موصولہ مکتوب کوئی اشارہ ہو تو ریاستی حکومت پھر ان بسوں کو حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ آر ٹی سی کو بسوں کو لینے پر مجبور کیا گیا جسے وہ ’ فیم ‘ اسکیم کے تحت حاصل کرے گا ۔ آر ٹی سی انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے مقررہ وقت میں FAME بسوں کی وصولی کے لیے ٹنڈرس طلب نہیں کیے کیوں کہ آر ٹی سی ایرکنڈیشنڈ بسوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ اس لیے FAME اسکیم کے تحت الاٹمنٹ کو منسوخ کردیا گیا ۔ دوسری طرف آر ٹی سی نے ایک ہنگامی اساس پر 1300 بسوں کو حاصل کیا ۔ اس دوران مرکزی وزارت سرفیس ٹرانسپورٹ نے وضاحت کی کہ اس سے متعلق فائل سرکیولیشن کے تحت ہے لیکن منسوخ نہیں کی گئی ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ بیاٹری بسیس کی صورت میں بسوں کے مینٹیننس کے اخراجات کم ہوں گے ۔ آر ٹی سی نے آخر کار یہ فیصلہ کیا کہ اگر مرکز FAME اسکیم کے تحت بسوں کو دوبارہ الاٹ کرے تو وہ صرف نان ۔ ایرکنڈیشنڈ بسوں کو ہی لے گا ۔۔