حیدرآباد۔23اگسٹ(سیاست نیوز) سونے کے زیورات کی فروخت میں حکومت کی ہال مارک‘ بی آئی ایس و یونیک آئی ڈی پالیسی پر تاجرین نے دونوں شہروںمیں دکانات بند رکھ کر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرے۔ جوہریوں نے کہا کہ مرکز سے جو پالیسی نافذکی گئی ہے اس پر عمل کیلئے لازمی ہے کہ ایسے اصول مرتب کرے جو کہ ہر تاجر اختیار کرسکے لیکن حکومت سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان پر صرف 10 فیصد تاجر عمل کرسکتے ہیں ۔ 90 فیصد چھوٹے تاجر ان پر عمل کرتے ہیں تو انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تاجرین نے الزام عائد کیا کہ مرکز کے اقدامات کا فائدہ سرکردہ تاجرین کو ہورہا ہے اور عوام میں جو غلط فہمیاں پیدا ہونے لگی ہیں ان کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے ۔ حکومت کی نئی پالیسی کے بعد عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ جن زیورات پر ہال مارک ‘ بی آئی ایس یا فروخت کنندہ کا یونیک آئی ڈی موجود نہیں ہے وہ زیور قیمتی نہیں ہوگا ۔ تاجرین نے بتایا کہ وہ مرکزی وزارت فینانس و کامرس کو واقف کروا چکے ہیں اور جوہریوں کی مختلف تنظیموں سے بھی نمائندگی کی جا چکی ہے لیکن مرکز اپنی پالیسی سے دستبرداری کیلئے تیار نہیں ہے اسی لئے آج دونوں شہروں تاجرین نے احتجاج کیا۔M