گھریلو کنکشن کیلئے اسمارٹ میٹرس کی تنصیب لازمی
آخر اسمارٹ میٹرس کیوں ؟
مرکز نے برقی صارفین کو خدمات فراہم کرنے میں شفافیت اور موثر ڈیجیٹلائزیشن کے کئی اقدامات کئے ہیں۔ مرکز کے ان اقدمات کا مقصد برقی کی سربراہی پر آنے والے نقصانات کو کم کئے جانے اور برقی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکامس ) کی کارکردگی اور سربراہی کو علحدہ کیا جاسکے۔ ریاستوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اسمارٹ پری پے منٹ میٹرس کی تنصیب کے منصوبہ کو قبول کریں، اب تک روایتی میٹرس کا استعمال ہوتا تھا اب انہیں ختم کرکے اسمارٹ میٹرس لگائے جائیں۔ ریاستوں کو مرکزی اُصولوں پر چلنا ضروری ہوتا ہے، وہ مرکز کی ہدایت پر عمل کرنے کی پابند ہیں تو اس کے ساتھ مالیاتی فوائد بھی گرانٹس اور قرضوں کی شکل میں فراہم کی جانی چاہیئے تاکہ ریاستوں پر پڑنے والا مالیاتی بوجھ کم ہوسکے۔
حیدرآباد : مرکزی حکومت نے حال ہی میں تمام ریاستوں کو احکام جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ تمام نئے الیکٹریسٹی صارفین کو اسمارٹ پری پیمنٹ میٹرس کی تنصیب کے لئے سختی سے روبہ عمل لائیں۔ اس اسمارٹ میٹر نے تلنگانہ ڈسکام کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ ڈسکام کے عہدیداروں کو تشویش ہے کہ اگر مرکز کے ان اسمارٹ پری پیمنٹ میٹرس کو لگایا گیا تو اس پر بھاری مالیاتی مصارف عائد ہوں گے، ڈسکام کو ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا اس کے مصارف کون برداشت کرے گا۔ نئے میٹرس کا حصول اور اس کی تنصیب پر آنے والے اخراجات کی پابجائی کس صورت میں ہوگی۔ ڈسکام کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے میٹر پر زائد از 8 ہزار روپئے کا خرچ آئے گا۔ میٹرس کی تنصیب مالیاتی طور پر ایسی صورتحال پیدا کرے گی جو ان کی گنجائش سے باہر ہوگی۔ اس کے علاوہ اس طرح کے پری پیڈ میٹرس کی بڑی قلت پیدا ہوگی تو مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ میٹرس تیار کرنے کی گنجائش بھی زیادہ نہیں ہے۔ ڈسکامس انتظامیہ کو اندازہ ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پالیسی فیصلہ کرے تاکہ مسئلہ کا حل نکل سکے۔ ترجیحی بنیادوں پر حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں اس بحران سے نجات دلانا ہوگا۔ یہاں یہ بات نوٹ کی جاتی ہے کہ مرکز نے حال ہی میں نئے قوانین کے ساتھ ایک گزٹ جاری کیا ہے جس کا عنوان ’ الیکٹریسٹی ( صارفین کے حقوق ) قواعد 202 ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اس اسمارٹ میٹر کے بغیر کسیکو نیا الیکٹریسٹی کنکشن نہیں دیا جائے گا اور اس طرح کا میٹر اسمارٹ پری پے میٹر یا پری پے منٹ میٹر ہوگا۔اسمارٹ میٹر یا پری پے منٹ میٹر سے استثنیٰ کیلئے بھی کمیشن سی آر سی سے منظوری ہونا چاہیئے جو اسمارٹ میٹرس کی تنصیب سے گریز کرنے کی اجازت دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ ڈسکام کے حکام نے اس بات کی جانب توجہ دلائی ہے کہ حکومت کو اس سلسلہ میں فوری قدم اُٹھاتے ہوئے پالیسی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مرکز نے پری پے منٹ میٹرس کی فروغ کیلئے لازمی قرار دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ میٹرس لگانا لازمی ہوجائے گا۔ فی الحال برقی کا استعمال روایتی میٹرس کے ذریعہ کیا جاتا ہے اس کیلئے طئے شدہ ڈیولپمنٹ چارجس لئے جاتے ہیں جس کیلئے زائد از3000 روپئے خرچ آتا ہے۔ گھریلو میٹرس کے لئے 3000 روپئے لئے جاتے ہیں۔ نئے میٹرس کی قیمت 8000 اور 14000 روپئے کے درمیان ہوگی جو سنگل فیزیا تھری فیز کنکشن پر منحصر ہے۔ مرکزی وزارت توانائی نے بھی گزٹ میں اپنی منظوری دے دی ہے کہ صارفین اپنے طور پر یہ میٹرس خرید سکتے ہیں یا ڈسٹری بیوشن لائسنس رکھنے والے سربراہ کرسکتے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اب تک کوئی پالیسی فیصلہ نہیں کیا ہے جس سے صارفین کو اسمارٹ میٹرس خریدنے کے لئے اپنی جیب سے روپیہ خرچ کرنا چاہیئے۔ جہاں تک ان میٹرس کی حفاظت اور سیکوریٹی کا تعلق ہے ان میٹرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا امکان پایا جاتا ہے۔ آج تک حکومت صرف روایتی میٹرس کا استعمال کررہی ہے اور اس میں صارفین کی مداخلت کے بغیر روایتی میٹرس ہی لگائے جارہے ہیں۔ اب نئے میٹرس کی قیمت زیادہ ہوگی۔ حکومت اس خرچ کو اس وقت تک برداشت نہیں کرسکتی جب تک کہ ڈیولپمنٹ چارجس میں پانچ تا 6 گنا اضافہ کیا جائے۔ موجودہ طور پر ڈیولپمنٹ چارجس 3000 روپئے لئے جارہے ہیں ۔ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اور چیلنج یہ ہوگا کہ ہندوستانی مارکٹ میں ان اسمارٹ میٹرس کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں پر اسمارٹ میٹرس کی تیاری کم ہوتی ہے اور کم مقدار میں میٹرس کی تیاری کا مطلب اس کی سربراہی بھی محدود ہوگی۔ اس لئے مرکز اور ریاست کو اس مسئلہ پر اتفاق رائے پر پہونچنا چاہیئے اور یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک نئے میٹرس کی تیاری طلب کے مطابق نہ ہو اس کو لگانے کے لزوم میں نرمی دی جائے۔بلا شبہ تلنگانہ ملک میں پہلی ریاست ہے جہاں 2016 میں تمام سرکاری دفاتر میں پری پے منٹ میٹرس کی تنصیب عمل میں لائی گئی ہے۔ ڈسکام نے اس کی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے۔ اس طرح کے میٹرس کو زائد از 60 فیصد سرکاری دفاتر میں لگایا گیا ہے۔