مرکز کے برقی بل کے خلاف تلنگانہ اسمبلی میں قرارداد کی منظوری

   

پارلیمنٹ میں مخالفت کی جائے گی، کسانوں اور غریبوں کو نقصان: کے سی آر
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کے مجوزہ برقی ترمیمی بل 2020 کے خلاف تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قرارداد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ مرکز سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مجوزہ قانون سے دستبرداری اختیار کرلے کیونکہ یہ ملک کی وفاقی روح اور دستور کے خلاف ہے۔ بل کے ذریعہ برقی شعبہ پر ریاستوں کے اختیارات سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2003 کے برقی بل میں ترمیمات کے ذریعہ مرکز نئے قانون کی منظوری چاہتا ہے اور یہ قانون کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ قرارداد کے ذریعہ تلنگانہ اسمبلی مرکز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مجوزہ قانون عوام پر مسلط نہ کرے اور فوری دستبرداری اختیار کرلے۔ بل کے بارے میں چیف منسٹر نے مختلف خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بل نہ صرف ریاستوں بلکہ کسانوں کے خلاف ہے۔ بل پر عمل آوری کی صورت میں کسانوں کی زندگی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ تلنگانہ برقی کے بحران سے نمٹنے میں کامیاب رہا ہے تاہم مرکزی بل کی منظوری کی صورت میں تلنگانہ کے مفادات متاثر ہوں گے کیونکہ موجودہ شکل میں یہ بل انتہائی خطرناک ہے۔ مرکز نے بل کا مسودہ روانہ کرتے ہوئے رائے طلب کی ہے۔ کے سی آر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بل سے دستبرداری کی اپیل کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن میں یہ بل متعارف کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومتوں نے برقی شعبہ کو مرکوز کردیا تھا جو دستور کی روح کے مغائر ہے۔ ریاستوں کو مستحکم کرنے کے بجائے نریندر مودی حکومت اختیارات میں کمی کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کی صورت میں اگر حیدرآباد میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ہمیں دہلی کے لوڈ ڈسپیاچ سنٹر سے ربط قائم کرنا پڑے گا۔کانگریس اور مجلس نے چیف منسٹر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی تائید کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز کا مجوزہ قانون انتہائی خطرناک ہے ٹی آر ایس پارلیمنٹ میں بل کی مخالفت کرے گی۔ برقی شعبہ میں ریاستوں کے اختیارات میں کمی کی کوششوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مرکزی بل میں کئی خامیاں ہیں۔ اسی دوران وزیر برقی جگدیش ریڈی نے بھی مرکزی بل کو تلنگانہ کے مفادات کے مغائر قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں اور کمزور طبقات پر بھاری بوجھ عائد ہوسکتا ہے۔