حکومت کے علامتی پتلے جلائے جائیں گے
حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے زرعی شعبہ اور کسانوں کے بارے میں مرکزی حکومت کی پالیسی کے خلاف کل 20 ڈسمبر کو ریاست بھر میں احتجاج اور ریالیوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز پر دباؤ بنانے احتجاج منظم کرنے اور بی جے پی کے علامتی پتلے نذرآتش کرنے کی اپیل کی ۔ ریاست کے تمام اضلاع میں وزرا و عوامی نمائندے احتجاجی پروگراموں میں حصہ لیں گے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ کے سی آر نے نریندر مودی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرکے کہا کہ کسانوں کو انصاف دلانے تک وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے اندرا پارک پر مہا دھرنا منعقد کیا گیا تھا جس میں چیف منسٹر نے خود شرکت کی تھی۔ وزراء کا ایک وفد نئی دہلی روانہ کیا گیا ہے تاکہ مرکزی وزیر پیوش گوئل سے نمائندگی کی جائے۔ مختلف اضلاع میں آج ریاستی وزراء نے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مخالف مرکز احتجاجی پروگرام کو قطعیت دی۔ ضلع رنگاریڈی میں وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 3 کروڑ ٹن دھان کی کاشت کی گئی ہے جو حکومت کی جانب سے بہتر سہولتوں کے نتیجہ میں ممکن ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ دھان کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کا موقف کسانوں کی زندگی سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے مرکز کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہر اسمبلی حلقہ میں پارٹی قائدین احتجاج منظم کریں گے۔ مرکز کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ہر اسمبلی حلقہ اور منڈل کی سطح پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ ر