مرکز کے خلاف کے سی آر کا جارحانہ موقف، ریاستوں کو کمزور کرنے کا الزام

   

وزیراعظم نریندر مودی کو سخت الفاظ پر مبنی مکتوب، آل انڈیا سرویس رولس میں ترمیمات کی شدت سے مخالفت
حیدرآباد 24 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے آل انڈیا سرویس (کیڈر) رولس 1954 میں مجوزہ ترمیمات پر سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ مرکز کی جانب سے آل انڈیا سرویس رولس میں امکانی ترمیمات دراصل دستور کے وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہیں اور اِس سے دستور کی روح متاثر ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ ترمیمات سے آل انڈیا سرویس آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس کے رول پر اثر پڑے گا لہذا تلنگانہ حکومت مجوزہ ترمیمات کی شدت سے مخالفت کرتی ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت ریاستی حکومتوں سے کسی بھی عہدیدار کے مرکزی حکومت میں ڈیپوٹیشن سے قبل رائے حاصل کرنا لازمی ہے لیکن مجوزہ ترمیمات میں مرکزی حکومت کو یکطرفہ طور پر کارروائی کے اختیارات دیئے جارہے ہیں جس کے تحت متعلقہ ریاستوں سے رائے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ انتہائی خطرناک اقدام ہے جو دستوری ڈھانچے اور کوآپریٹیو فیڈرلزم کے خلاف ہے۔ مجوزہ ترمیمات کے نفاذ سے ریاستی حکومتیں اپنی اہمیت کھودیں گی۔ ترمیمات کا مقصد ریاستوں میں برسر خدمت سنٹرل سرویس کے عہدیداروں پر مرکزی حکومت کا بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنا ہے اور یہ ریاستی حکومتوں کی کارکردگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ ترمیمات کے ذریعہ عہدیداروں کو نشانہ بناتے ہوئے ہراساں کیا جاسکتا ہے اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ اُن کے جوابدہی پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہوگی۔ ترمیمات کے ذریعہ آل انڈیا سرویس آفیسرس کے معاملہ میں ریاستی حکومتوں کو اختیارات سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ مجوزہ ترمیمات دراصل مرکز ۔ ریاست تعلقات کے بارے میں دستور میں ترمیم کے مترادف ہوگا۔ آل انڈیا سرویس رولس میں درپردہ طریقہ سے ترمیم کے بجائے حکومت ہند کو پارلیمنٹ کے ذریعہ ترمیم کی جرأت دکھانی چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ترمیمات کی صورت میں عہدیداروں کے تقررات اور کارکردگی پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ اُنھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ مجوزہ ترمیمات سے فوری دستبرداری اختیار کریں۔ ر