مرکز کے رویہ سے کے سی آر فکر مند، ٹکراؤ کی بجائے مصالحت پر غور

   

پارلیمنٹ میںصرف علامتی احتجاج، حضورآباد نتیجہ کے بعد سے دوریوں میں اضافہ، وزراء سے مشاورت
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے رویہ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کی تیاری شروع کردی ہے۔ کسانوں سے دھان کی خریدی اور آئندہ ربیع سیزن کیلئے تلنگانہ سے دھان کی خریدی کا نشانہ مقرر کرنے کے مسئلہ پر مرکز نے کوئی بھی تیقن دینے سے انکار کردیا ہے۔ حضورآباد ضمنی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد مرکزی حکومت کے رویہ میں اچانک تبدیلی سے چیف منسٹر کے سی آر الجھن کا شکار ہیں۔ انتخابات سے قبل مرکزی حکومت ریاست کے مطالبات پر ہمدردانہ موقف کا اظہار کررہی تھی لیکن حضورآباد کے نتیجہ کے بعد مرکز نے کھل کر تلنگانہ کے خلاف موقف اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ مرکز پر دباؤ بنانے کیلئے کے سی آر خود میدان میں آئے اور انہوں نے نئی دہلی میں دھرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ چیف منسٹر نے کسانوں کے مسئلہ پر اب تک چار پریس کانفرنس کیں اور ان تمام میں مرکزی حکومت اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے قومی سطح پر مرکز اور بی جے پی کے خلاف مہم چھیڑنے کی دھمکی دی باوجود اس کے مرکز کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چیف منسٹر بظاہر مرکز سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت میں مرکز کی مخالفت دراصل حکمت عملی کا حصہ ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کے سی آر نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ دھان کی خریدی اور ریاست کے زیر التواء دیگر مسائل پر دونوں ایوانوں میں احتجاج کریں لیکن احتجاج کی حد ہونی چاہیئے۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح کوئی ایسے قدم نہ اٹھائے جائیں جس سے مرکز کے ساتھ رشتوں میں مزید دوری پیدا ہوجائے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی لیڈرس کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ پارلیمنٹ اور اس کے باہر احتجاج کے ذریعہ کسانوں اور عوام کو یہ پیام دیا جائے کہ مرکزی حکومت کے خلاف تلنگانہ کا موقف سخت ہے لیکن ریاست کے دیرینہ مسائل کے حل کیلئے مرکز سے تعاون ضروری ہے۔ وفاقی نظام میں مرکز اور ریاست بہتر تعلقات اور تال میل کے ذریعہ عوام کی بھلائی کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کو اس بات پر حیرت ہے کہ پارلیمنٹ میں گزشتہ سات برسوں میں حکومت کے کئی اہم فیصلوں کی تائید کے باوجود نریندر مودی حکومت نے تلنگانہ کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا ہے۔ اپوزیشن برسراقتدار ریاستوں کے بارے میں اگرچہ مرکز کا موقف نرم ہے لیکن تلنگانہ کے بارے میں بے اعتنائی سے چیف منسٹر فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اور پھر کابینی اجلاس میں چیف منسٹر نے موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تجاویز طلب کی ہیں۔ بعض وزراء نے چیف منسٹر کو دورہ دہلی کا مشورہ دیا لیکن موجودہ حالات میں کے سی آر دورہ دہلی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ ایک طرف مرکز نے دھان کی خریدی سے انکار کردیا ہے تو دوسری طرف بی جے پی قائدین کسانوں کو دھان کی کاشت کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور جس مسئلہ پر مرکزی حکومت خاموش ہے۔ قائدین کا یہ احساس ہے کہ ریاست میں سیاسی طور پر استحکام حاصل کرنے کیلئے بی جے پی نے مرکزی حکومت کو مخالف تلنگانہ موقف کیلئے آمادہ کرلیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر مرکز سے ٹکراؤ کے خاتمہ کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے۔ر