پارلیمنٹ میں مخالفت نہیں کی گئی، اسمبلی میں قرارداد کا مطالبہ
حیدرآباد : سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا نے کسانوں کے بھارت بند کو کے سی آر کی جانب سے تائید پر تبصرہ کرتے ہوئے حکومت پر کسانوں کے سلسلہ میں دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہاکہ کسانوں کی تائید کا ڈرامہ کرنے والے کے سی آر نے پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کے خلاف ووٹ نہیں دیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر ایک طرف بی جے پی کی تائید کررہے ہیں تو دوسری طرف کسانوں کی ناراضگی سے بچنے کے لئے بند کی تائید میں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے نہ صرف پارلیمنٹ میں بل کی مخالفت کی بلکہ ملک بھر میں کسانوں کے احتجاج کی سونیا گاندھی نے تائید کی۔ ہائی کمان کی ہدایت پر پنجاب اور دیگر ریاستوں میں کانگریس حکومتوں کی جانب سے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی زرعی قوانین کو مسترد کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر کو بند کی تائید سے قبل اِس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ اُن کی پارٹی نے سیاہ زرعی قوانین کے خلاف ووٹ کیوں نہیں دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں جب ووٹنگ کا وقت آیا تو ٹی آر ایس نے ایوان سے باہر نکل گئے اور بل کی مخالفت کی۔ حقیقی مخالفت تو بل کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے کی جاسکتی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی میں قرارداد کی عدم منظوری کے ذریعہ ٹی آر ایس حکومت بے نقاب ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کسانوں کی خودکشی کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ تلنگانہ کے کسان فصلوں کی امدادی قیمت کے علاوہ سیلاب کے نقصانات پر حکومت کی امداد سے محروم ہیں۔ پونالہ لکشمیا نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیاکہ وہ کسانوں کی ہمدردی کا ناٹک کرنے کے بجائے مرکزی قوانین کے خلاف اسمبلی میں قرارداد منظور کریں۔