چنائی :ایم کے اسٹالن نے کہا ہے کہ وہ ٹاملناڈو میں قومی تعلیمی پالیسی کو لاگو نہ کرنے کے اپنے موقف پر قائم ہیں یہاں تک کہ اگر مرکز ریاست کو 10,000 کروڑ روپے فنڈز فراہم کرنے کی پیشکش کرے تب بھی وہ پالیسی قبول نہیںکریں گے ۔چیف منسٹر ٹاملناڈو نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کی مخالفت محض ہندی کے نفاذ پر نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ اور بھی کئی عوامل ہیں جن کے طلباء کے مستقبل اور سماجی انصاف کے نظام پر سنگین نتائج ہوں گے۔ٹاملناڈو کے کڈالور میں پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسٹالن نے کہاکہ ہم کسی بھی زبان کے مخالف نہیں ہیں لیکن اس کے نفاذ کی مخالفت میں ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی رجعت پسند ہے، یہ طلباء کو اسکولوں سے دور کرے گی۔ اسٹالن نے آج کہا کہ مرکز کا کہنا ہے کہ اگر ریاست NEP کو لاگو کرتی ہے تو ٹاملناڈوکو 2,000 کروڑ روپے ملیں گے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مرکز 10,000 کروڑ روپے کی پیشکش کرتا ہے تو بھی ہم اتفاق نہیں کریں گے۔ اسٹالن نے پہلے کہا تھا کہ یہ پالیسی ہندی کو پروان چڑھانے کیلئے لائی گئی تھی نہ کہ تعلیم کیلئے ہے۔