مریخ پر ناسا کے ’روور‘کی کامیاب لینڈنگ

,

   

زندگی کے امکانات کھوجنے کا مشن شروع ۔ ناسا اور امریکہ کیلئے فخریہ موقع

واشنگٹن : امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘نے مریخ پر ’مارس پرسیورینس روور‘ بھیجنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی نے رات تقریباً 2:30 بجے اپنے مارس پرسیورینس کو جیزیرو کریٹر میں کامیابی کے ساتھ لینڈ کرایا۔ 6 پہیے والا یہ روور مریخ پر اترکر وہاں پر کئی طرح کی جانکاریاں جمع کرے گا اور ایسی چٹانیں لیکر آئے گا، جن سے ان سوالوں کا جواب مل سکے گا کہ کیا کبھی سرخ سیارے پر زندگی تھی۔جیزیرو کریٹر مریخ کا انتہائی ناقابل رسائی علاقہ ہے۔ یہاں پر گہری گھاٹی، اور سخت پہاڑ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہاں پر ریت کے ٹیلے اور بڑے بڑے پتھر اس کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں پرسیورینس مارس روور کی لینڈنگ کی کامیابی پر پوری دنیا کی نظر تھی۔ پرسیورینس روور کے مریخ پر اترنے کے ساتھ ہی امریکہ مریخ پر سب سے زیادہ روور بھیجنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہیکہ جیزیرو کریٹر میں پہلے ندی بہتی تھی، جو کہ ایک جھیل میں جاکر ملتی تھی۔ اس کے بعد وہاں پر پنکھے کی طرح ڈیلٹا بن گیا۔ سائنسداں اس کے ذریعہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ کیا مریخ پر کبھی زندگی تھی۔سائنسدانوں کا ماننا ہیکہ اگر کبھی مریخ پر زندگی رہی بھی ہوگی، تو وہ تین سے چار ارب سال پہلے کی بات ہوگی جب مریخ پر پانی بہتا تھا۔ سائنسدانوں کو امید ہیکہ روور سے فلسفہ، الہٰیات اور خلائی سائنس سے جڑے ایک اہم سوال کا جواب مل سکتا ہے۔ اس منصوبہ کے سائنسداں کین ولیفورڈ نے کہا، ’کیا ہم وسیع کائناتی صحرا میں تنہا ہیں یا کہیں اور بھی زندگی ہے؟ کیا زندگی کبھی بھی، کہیں بھی موافق حالات کی دین ہوتی ہے؟ یہ اب تک کا سب سے بڑا روور ہے، جسے ناسا نے بھیجا ہے۔ 1970 کی دہائی کے بعد سے امریکی خلائی ایجنسی کا یہ مریخ کا 9واں مشن ہے۔ ناسا کے سائنسدانوں نے بتایا کہ روور کو مریخ کی سطح پر اترنے میں لگنے والے سات منٹ سانسیں تھما دینے والا وقفہ تھا۔ جیسے ہی یہ روور مریخ پر کامیابی کے ساتھ اترا، سائنسدانوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔یہ خلائی کامیابی نہ صرف ناسا بلکہ امریکہ کیلئے قابل فخر موقع ہے۔