گردہ کے مریضوں میں حیرتناک
اضافہ ، ڈائیلاسیس کے اخراجات
ناقابل برداشت ، آروگیہ سہولت
مریضوں کیلئے ناکافی
حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں گردہ کے مرض کا شکار افراد کی تعداد میں حیرت ناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گردے ناکارہ ہونے اور ڈائیلاسیس کی نوبت کے شکار مریضوں کی تعداد میں عام شہریوں کی بڑی تعداد ہے جن کیلئے ڈائیلاسیس کے اخراجات کو برداشت کرنا کافی مشکل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آروگیہ شری کے تحت ڈائیلاسیس کے مفت علاج کا اعلان کیا اور آروگیہ شری کے تحت علاج جاری ہے۔ ریاست کے 43 مراکز میں 42 لاکھ سے زیادہ ڈائیلاسیس کیسیس کا علاج کیا گیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہیکہ صرف حیدرآباد میں 10 لاکھ سے زائد ڈائیلاسیس کے سیشن منعقد کئے گئے۔ مرض کی شدت کے لحاظ سے کسی مریض کو ہفتہ میں دو مرتبہ اور کسی کو تین مرتبہ ڈائیلاسیس کی نوبت پڑتی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے ریاست بھر میں 43 مراکز قائم کئے گئے جن میں 575 کروڑ کے اخراجات سے علاج کیا گیا۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی اضلاع میں ڈائیلاسیس کے مریضوں کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے۔ گذشتہ 6 سال کے عرصہ میں 02-06-2014 تا 16-11-2021 تک ریاست میں 42.61 لاکھ ڈائیلاسیس کے سیشن کئے گئے جن میں 10,42,660 حیدرآباد میں کئے گئے جو سب سے زیادہ ہے جس کے بعد ضلع رنگاریڈی 4,87,696 پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ عادل آباد، میدک، کھمم، محبوب نگر، کریم نگر، میڑچل، ملکاجگری، نلگنڈہ، ہنمکنڈہ، نظام آباد اضلاع میں بھی لاکھوں کی تعداد میں ڈائیلاسیس سیشن کو انجام دیا گیا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور بھارت کے (آئی سی ایم آر) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ افراد گردے کے عارضہ کا شکار ہورہے ہیں۔ ع