مریں گے یا جیتیں گے، مرکز کی ہٹ دھرمی پر کسان کا ردعمل

,

   

نئی دہلی : مرکز کی مودی حکومت تین متنازعہ زرعی قوانین پر سراپا احتجاج کسانوں کو آج اپنا وہی راگ سنایا کہ یہ قوانین نہ منسوخ کئے جاسکتے ہیں اور نہ ایسا کئے جائیں گے۔ چنانچہ جمعہ کو دارالحکومت کے وگیان بھون میں منعقدہ بات چیت کا آٹھواں دور مزید گہرے تعطل کے ساتھ ختم ہوگیا۔ بتایا گیا ہے کہ بات چیت کا اگلا راؤنڈ 15 جنوری کو طے کیا گیا ہے۔ احتجاجی کسان یونینوں سے لگاتار آٹھ مرتبہ جب مرکز نے کہا کہ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین منسوخ نہیں کرسکتے اور نہ ہی ایسا کریں گے، پُرعزم کسان قائدین نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا۔ ناکام بات چیت کے بعد ایک کسان لیڈر نے کہا: ’’ہم مرجائیں گے یا جیتیں گے۔‘‘ دستیوں ہزار کسان زائد از ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں، اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ستمبر میں پارلیمنٹ کے منظورہ اپنے ’’موافق اصلاحات‘‘ زرعی قوانین کو ختم کردے۔ حکومت کے نمائندہ تین مرکزی وزراء نریندر سنگھ تومر، پیوش گوئل اور سوم پرکاش نے بات چیت سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ بات چیت میں شریک کسان لیڈر کویتا کوروگنتی نے بتایا کہ حکومت نے کہا ہے کہ متنازعہ قوانین کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا اور نہ وہ ایسا کریں گے۔ بات چیت کے ابتداء میں ہی کسانوں نے اپنا موقف سخت کرتے ہوئے واضح کردیا کہ انھیں متنازعہ قوانین کی صرف منسوخی سے مطلب ہے۔ کویتا کے مطابق کسان قائدین نے میٹنگ کے دوران اپنا موقف واضح کرتے ہوئے نعرے لگائے، جیسے ’’ہم مریں گے یا جیتیں گے۔‘‘