ڈاکٹر نارائنا ، وینکٹ ریڈی اور عزیز پاشاہ کی شرکت، اپوزیشن کا اظہار یگانگت
حیدرآباد۔/5 مئی، ( سیاست نیوز) سی پی آئی قائدین نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران غیر منظم شعبہ کے ورکرس اور غیر مقامی ورکرس کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے مخدوم بھون میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ پارٹی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا، ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ نے بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ انہوں نے غیر منظم ورکرس اور غیر مقامی لیبرس کیلئے معاشی پیاکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر خاندان کو 7 ہزار روپئے نقد اور 20 کیلو چاول فراہم کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقامی ورکرس کیلئے شیلٹرس ہوم قائم کئے جائیں جہاں تمام بنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں۔ صدر تلنگانہ تلگودیشم ایل رمنا اور تلنگانہ جنا سمیتی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام نے بھوک ہڑتالی کیمپ پہنچ کر اظہار یگانگت کیا۔ سی پی آئی قائدین نے خانگی اسکول کے ٹیچرس اور ملازمین کو 2 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ طویل ترین لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں غریب اور متوسط طبقات معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ مرکزی حکومت کو 10 لاکھ کروڑ کے معاشی پیاکیج کا ملک بھر کیلئے اعلان کرنا چاہیئے۔ یہ رقم ریاستوں کی آبادی کے اعتبار سے جاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقامی لیبرس کی منتقلی کے تمام اخراجات حکومت کو برداشت کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی کمپنیوں کے ملازمین اور خانگی اسکولوں کے ٹیچرس اور اسٹاف کو دو ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ضلع کلکٹرس کے ذریعہ اسکولوں اور خانگی انتظامیہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند کرے۔ بھوک ہڑتال میں پارٹی کے ریاستی قائدین ٹی پدما ، بالا ملیش، ڈاکٹر ڈی سدھاکر، پانڈو رنگا راؤ، شیورام کرشنا، راکیش اور دوسروں نے حصہ لیا۔ مختلف اضلاع میں بھی پارٹی قائدین نے ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ کیمپ میں اظہار یگانگت کیلئے آئے ہوئے تلگودیشم اور جنا سمیتی قائدین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام کیلئے مشکلات کا سبب بنی ہے۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کسانوں اور غیر مقامی لیبرس کے مسائل پر فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔
