مزدور نے خود اپنی بائیک نذر آتش کردی پولیس چالانات کی بھاری رقم ادا کرنے میںناکامی کا نتیجہ

   

حیدرآباد۔10اگسٹ (سیاست نیوز) پولیس کی جانب سے کئے گئے چالانات اور ان کی ادائیگی سے قاصر کاشتکار نے اپنی بائیک کو خود نذرآتش کردیا۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ وقارآباد ضلع سے تعلق رکھنے والے کاشتکاری مزدور سنگپا نے گذشتہ یوم پولیس کی جانب سے اس کی گاڑی روکنے اور 4850 روپئے پر مشتمل چالانات کی ادائیگی کے لئے دباؤ ڈالے جانے سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی ہی بائیک کو نذرآتش کردیا۔ تفصیلات کے مطابق 2019 سے سنگپا کی بائیک پر مجموعی اعتبار سے 4850 کے چالانات کے بقایاجات تھے اور جابجا اسے پولیس ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ۔ گذشتہ یوم بھی سنگپا کو وقار آباد کے قریب پولیس اہلکاروں نے روک کر اسے بتایاکہ اس کی گاڑی پر جملہ 12 چالانات کی ادائیگی کرنی ہے جس کی جملہ رقم 4850ہے ان چالانات کی تفصیل کے ساتھ سنگپا اپنے گھر پہنچا اور گھر کے قریب کھلی جگہ پر اپنی بائیک کو نذرآتش کردیا۔ بتایا جا تا ہے کہ سنگپا کی گاڑی پر لائسنس نہ ہونے کے علاوہ بغیر ہیلمٹ ‘ غلط پارکنگ اور لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کے چالانات ہیں ۔ سنگپا کا کہناہے کہ وہ ایک کاشتکاری مزدور ہے اس کے لئے اتنی بھاری رقومات چالانات کی ادائیگی کے لئے جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے قریبی مواضعات میں ہی گاڑی کا استعمال کرتا ہے اسی لئے وہ چالانات ادا کرنے سے قاصر ہے۔ پولیس کے چالانات اور کئی چالانات کے بعد بھاری رقومات کی ادائیگی سے قاصر موٹر سیکل مالکین اسی طرح کے تناؤ کا شکار ہونے لگے ہیں اور مزدور طبقہ سے اس قدر بھاری چالانات کی وصولی کی توقع کرنا اور انہیں ہراساں کرکے چالان کی ادائیگی کیلئے دباؤ ڈالنا درست نہیں ہے۔