مزید 5 امریکی ریاستوں نے ’بھنگ‘ کے استعمال کی منظوری دے دی

   

واشنگٹن: دنیا کے سوپر پاور تصور کیے جانے والے ملک امریکہ میں 3 نومبر کو صرف صدر کے انتخاب کیلئے ہی ووٹ نہیں ڈالے گئے بلکہ اس دن سینیٹ، ایوان زیریں، ریاستی اسمبلیوں، ریاستی گورنرز اور ریاستی قوانین کیلئے بھی ووٹنگ ہوئی۔3 نومبر کو امریکہ کی 50 ریاستوں کے عوام نے صدر کے انتخاب کیلئے ووت ڈالا۔تاہم کم از کم 34 ریاستوں کے ووٹرز نے نئے قوانین بنانے کیلئے بھی ووٹ ڈالے۔جی ہاں! امریکہ میں انتخابات والے دن ہی عوام نے ’بیلٹ میڑرس‘ کیلئے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔’بیلٹ میڑرس‘ دراصل عوام کی رائے کے ذریعہ کی جانے والی قانون سازی کو کہا جاتا ہے، یہ عمل ریفرنڈم کی طرز کا ہوتا ہے ۔3 نومبر کو امریکہ کی کم از کم 34 ریاستوں میں مختلف مسائل پر قانونی ترامیم کیلئے ’بیلٹ میڑرس‘ کیلئے ووٹنگ ہوئی اور اسی دوران کم از کم 5 ریاستوں نے ’بھنگ‘ کو قانونی طور پر تفریحاً یا علاج کیلئے استعمال کرنے کی منظوری دیدی۔امریکی نشریاتی ادارہ ’اے بی سی نیوز‘ کے مطابق ’بیلٹ میڑرس‘کے ذریعہ کم از کم 5 ریاستوں نے ’بھنگ‘ کو قانونی قرار دیکر اس کے ادویات میں استعمال سمیت بالغ افراد کی جانب سے تفریح کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دیدی۔