اسرائیل کی ظالمانہ کارروائی سے انسانیت شرمسار ، عرب ممالک کو آگے آنے کا مشورہ ، زوم کانفرنس سے مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔ عرب اور نام نہاد مسلم ممالک کو مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام اور تحفظ انسانیت کے لئے سرگرم شہریوں کے جذبات و احساسات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے ‘ عرب ممالک کو مسئلہ فلسطین سے اپنا دامن چھڑانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی فلسطین پر مظالم کے ذمہ داروں سے تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانا چاہئے ۔ مسئلہ فلسطین کسی ایک مذہب یا اس کے ماننے والوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ فلسطین کو سمجھنے اور فلسطینیوں کی حمایت کیلئے انسانیت کا ہونا ضروری ہے۔ فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والوں کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے اور فلسطین پر مظالم ڈھانے والے اسرائیل کی ظالمانہ کاروائی پر خاموش رہنا انسانیت کو شرمسار کرنا ہے۔ ہندستان نے اقوام متحدہ میں جاریہ تنازعہ کے دوران فلسطین کے ساتھ اپنے تعلقات اور غزہ پر کئے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہندستان کی فلسطین کے متعلق پالیسی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے اور آج بھی ہندستان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انڈین فرینڈس فار فلسطین کے زیراہتمام منعقدہ ایک زوم پریس کانفرنس کے دوران مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ مولانا سید محمود اسعد مدنی ‘ مولانا محمد سفیان قاسمی‘ مسٹر کے سی تیاگی ‘ مہارشی بھرگو پتھادیشور گوسوامی سشیل مہاراج‘ مسٹر ونئے کمار‘ڈاکٹر ایم ڈی تھامس کے علاوہ دیگر نے ان خیالات کا اظہار کیا او ر فلسطین پر جاری بمباری کوفوری روکنے اور دنیا بھر کے انسانیت دوست ممالک کو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک ظالم اور غاضب ریاست قرار دیا۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ابتداء میں اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر جاری حملوں کو مذموم حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالا ت میں اقوام متحدہ میں ہندستان کے سفیر نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہندستانی شہریوں کی فلسطینی کاز کو حمایت اور انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی مذمت کے احساسات کو عیاں کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر اپنا حق جتانے کی کوشش کررہا ہے جو کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی کی دلیل ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کا اس خطہ میں وجود ناانصافی کی علامت ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کے طاقتور ترین ممالک اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے عرب ممالک اور نام نہاد مسلم ممالک کے اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو ظالم ریاست سے اپنے تعلقات پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔مسٹر کے سی تیاگی نے اقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے معاملہ میں ہندوستان کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان نے اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے تحفظ کے لئے آواز اٹھائی ہے اور غزہ پر جاری بمباری کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسی طرح کانفرنس کے دوران اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں موجود ذرائع ابلاغ اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس بے رحمانہ اور ظالمانہ کاروائیوں کا نوٹ لے اور حقائق کو دنیا کے سامنے لاتے ہوئے ظالموں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔