مسئلہ فلسطین کی اقوام متحدہ قرار دادوںکے مطابق یکسوئی ضروری

,

   

Ferty9 Clinic

فلسطینیوں کیساتھ 1917 ء سے ناانصافی جاری‘ امریکہ عالمی کانفرنس طلب کرے ‘ ٹرمپ کا فارمولا مسترد
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے صدر فلسطین محمود عباس کا خطاب

نیویارک:فلسطینیوں کے ساتھ 1917 سے نا انصافیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن میں عالمی کانفرنس منعقد کی جانا چاہئے تاکہ ارض فلسطین پر قابض اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کا خاتمہ اور فلسطینی قوم کو اس کی آزادی اور خود مختاری کی منزل تک پہنچانا جا سکے۔فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں رواں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد آئندہ سال کے اوائل میں قضیہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے محمود عباس نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت حقیقی امن عمل میں شمولیت کیلئے عالمی سطح پر کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔ تاہم یہ کانفرنس امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد منعقد کی جائے۔ ۔انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن فارمولہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی ڈیل کو نہ صرف ہم نے بلکہ پوری دنیا نے مسترد کردیا ہے۔ یہ فارمولہ بین الاقوامی آئینی قراردادوں کے خلاف ہے۔محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق خود ارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی مدد سے اپنے قبضہ کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جسے فلسطینیوں نے مسترد کیا ہے اور پوری دنیا ہمارے نصب العین کی حمایت کر رہی ہے، ہم اسرائیل۔فلسطین تنازعہ کا جامع اور پائیدار حل چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوری زندگی فلسطینی کاز کے لئے وقف کرچکے ہیں ۔ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں مگر اسرائیل‘ ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام، املاک کو مسمار، مذہبی مقامات پر حملے، یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔