اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے خطاب ، گزشتہ سال 5 اگست کو اُٹھائے گئے حکومت ِ ہند کے اقدامات کا حوالہ
انقرہ : ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کشمیر کو ‘حل طلب مسئلہ’ قرار دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے استحکام اور امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن اسے آج تک حل نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے گزشتہ سال ہندوستان کی جانب سے 5اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ترک صدر نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خصوصاً کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس اس لحاظ سے انفرادیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں عالمی رہنمایانہ ہدایت پر خود شرکت کرنے کے بجائے کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن خطاب کررہے ہیں۔رجب طیب اردغان نے کہا کہ نسل پرستی، زینوفوبیا، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور تعصب اور جہالت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایسے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔کچھ مخصوص لوگ ہیں جنہوں نے آزادی اظہار کے نام پر نفرت آمیز بیانات کو صحیح قرار دیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف کیے گئے حملے کو اقوام متحدہ ‘اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن’ قرار دے۔ترک صدر نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف جغرافیائی لحاظ سے آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے برخلاف القدس میں سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے مسئلہ فلسطین مزید پیچیدہ ہو گیا ہے لیکن ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس میں فلسطینی عوام کی رضامندی شامل نہ ہو۔صدر اردوان نے مشرقی بحیرہ روم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک علاقائی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں خطے کے ممالک کے حقوق کو مدنظر رکھا جائے اور قبرصی ترکوں کو بھی اس میں جگہ دی جائے۔