صوتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے مرکزی حکومت کو سخت قدم اٹھانا ضروری : شیوسینا
ممبئی : شیوسینا نے آج مرکز سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ صوتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے مساجد میں لاوڈ اسپیکرس کے استعمال کو روکنے کیلئے سخت قدم اٹھائے۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھے گئے ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہیکہ اذان سے صوتی آلودگی پیدا ہورہی ہے۔ ممبئی میں ماحولیاتی آلودگی اور صوتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ صوتی آلودگی کو روکنے کیلئے مساجد کی میناروں پر لاوڈاسپیکرس کے ذریعہ اذان دینے کو روک دیا جائے اور اس کیلئے سخت آرڈیننس بھی لایا جانا چاہئے۔ یہ اداریہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شیوسینا کے ممبئی ساوتھ وبھاگ پرموک پانڈورنگ سکپال نے مسلم بچوں کیلئے اذان کے مقابلے منعقد کئے جانے چاہئے۔ سامنا کے اداریہ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی شیوسینا کے ایک لیڈر پر تنقید کرتی ہے جو اذان کی ستائش کررہے ہیں۔ وہ اسی طرح دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو پاکستانی دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ سامنا نے لکھا ہیکہ احتجاجی کسانوں میں زیادہ تر لوگ سابق فوجی ہیں یا ان کے بچے ملک کی سرحدوں پر اس وقت پہرہ دے رہے ہیں۔ آخر ہم ان لوگوں کو کیا کہیں جو کسانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر تبصرہ کرنے والوں نے لکھا ہیکہ شیوسینا نے اب ایسا معلوم ہوتا ہیکہ ہندوتوا کو ترک کردیا ہے۔ اس کے ساتھ بی جے پی کے قائدین کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جو عید کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ مل کر بہترین ڈش کھا رہے ہیں۔ اخبار نے مزید لکھا ہیکہ ہم اس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے کیونکہ ملک کے 22 کروڑ مسلمان ہندوستانی شہری ہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ گاؤکشی کے خلاف قانون بھی منظور کیا گیا ہے لیکن بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں گاؤکشی کے علاوہ اس کی خریدوفروخت اور کھانے کا بھی سلسلہ جاری ہے۔