چیف منسٹر کو وعدہ یاد دلایا جائے، 1654 ایکر اراضی کی سپریم کورٹ میں سماعت فیصلہ کن مرحلہ میں،حکومت مقدمہ واپس لے
حیدرآباد۔25۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی کے سی آر حکومت نے گزشتہ 7 برسوں میں مسلمانوں کے ساتھ یوں تو کئی وعدے کئے لیکن آج سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر نو کیلئے تقریب سنگ بنیاد کے انعقاد کے ذریعہ ایک اہم وعدہ کی تکمیل کی گئی۔ گزشتہ سال جولائی میں مسجد ہاشمی و مسجد دفاتر معتمدی کو راتوں رات شہید کردیا گیا تھا جس کی تعمیر نو کیلئے مسلمانوں کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا تھا ۔ حکومت نے مسجد ، مندر اور چرچ کا بیک وقت سنگ بنیاد رکھنے کا منصوبہ بنایا لیکن مساجد کے بارے میں مسلمانوں کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے تقریب سنگ بنیاد رکھی گئی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور تقریب سے غیر حاضر رہے۔ سرکاری عہدیدار بھی جن میں اقلیتی بہبود کے مشیر اور سکریٹری شامل ہیں ، وہ بھی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ ٹی آر ایس قائدین تقریب سنگ بنیاد کے بعد چیف منسٹر سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اہم وعدہ کی تکمیل کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن ایک اور اہم وعدہ چیف منسٹر کو پورا کرنا ہے جو درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اوقافی اراضی کی وقف بورڈ کو واپسی ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے درگاہ حسین شاہ ولیؒ کی اراضی کے تحفظ کے لئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور برسر اقتدار آنے کے بعد چیف منسٹر کی حیثیت سے تیقن دیا تھا کہ درگاہ کے تحت موجود کھلی اراضی فوری طور پر وقف بورڈ کے حوالے کردی جائے گی اور جن اراضیات پر تعمیرات ہیں، انہیں وقف بورڈ کا کرایہ دار بنایا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے اسمبلی اور اس کے باہر مسلمانوں کو یہ تیقن دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کا رویہ چیف منسٹر کے تیقن کے برخلاف ہے۔ حکومت کی جانب سے درگاہ کی 1654 ایکر اراضی کو سرکاری ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا گیا اور ملک کے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے علاوہ جن اداروں کو اراضی الاٹ کی گئی وہ بھی حکومت کی تائید میں بحث کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کے موقف سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اگر 1654 ایکر وقف اراضی سے مسلمان محروم ہوجائیں تو پھر ریاست کی دیگر اہم جائیدادوں کو بھی خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ چیف منسٹر کے تیقن کے مطابق حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرتے تاکہ فیصلہ وقف بورڈ کے حق میں ہو۔ اگر حکومت اراضی پر اپنی دعویداری ختم کردے تو یہ اراضی از خود وقف قرار پائیگی۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس اقلیتی قائدین ، عوامی نمائندے اور حکومت کی تائید کرنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں و اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیف منسٹر کو ان کا وعدہ یاد دلائیں اور سپریم کورٹ میں مقدمہ سے دستبرداری کیلئے دباؤ بنائیں۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت فیصلہ کن مرحلہ میں ہے ، ایسے وقت مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی 1654 ایکر اراضی کا تحفظ کریں ۔ کے سی آر نے خود کئی بار کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کو وقف اراضیات حوالے کردی جائیں تو انہیں حکومت سے بجٹ کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ مساجد کی تعمیر نو پر چیف منسٹر کو مبارکباد دینے والے قائدین اور جماعتیں وقف اراضی کے تحفظ کیلئے کس حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ ر