مساجد کو بند رکھنے کی کوششوں کو مفتیان کرام کی مخالفت

   

مفتی خلیل احمد اور خالد سیف اللہ رحمانی نے سیاسی قائدین کے موقف کو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ، مساجد کو ویران کرنے کی اجازت نہیں
حیدرآباد: لاک ڈاؤن کے دوران مساجد کو مکمل طور پر بند رکھنے کی کوشش کی مفتیان کرام نے مخالفت کی جس کے بعد حکومت نے گزشتہ لاک ڈاؤن کی طرح محدود تعداد میں اذاں اور باجماعت نماز کے اہتمام کی اجازت دی ہے۔ لاک ڈاؤن قواعد پر عمل آوری کے لئے مسلمانوں سے اپیل کرنے کے مقصد سے مفتیان کرام اور علماء کے ساتھ ویبنار کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں وزیر داخلہ محمود علی اور پولیس کے دو کمشنران بھی شریک تھے۔ سیاسی نمائندوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد تمام مذہبی عبادتگاہوں کو لاک ڈاؤن کے دوران بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے شریعت کی رو سے مساجد کو مکمل بند رکھنے کی مخالفت کی اور کہا کہ مساجدکو ہرگز ویران رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ حالات اختیاری اور حالات مجبوری دونوں میں شریعت کے احکامات علحدہ صادر ہوتے ہیں۔ کورونا وباء کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حالات مجبوری میں گھروں میں نمازوں کے اہتمام کی اپیل کی جاسکتی ہے لیکن مساجد کو ویران نہیں رکھا جاسکتا۔ دونوں مفتیان کرام کے واضح موقف کے بعد سیاسی قائدین کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی پڑی ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دینے کا تیقن دیا جس کے بعد کمشنرپولیس حیدرآباد انجنی کمار نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے علماء اور مفتیان کرام کو یقین دلایا کہ پولیس مساجد کو مکمل طور پر ویران کرنا نہیں چاہتی۔ 3 تا 4 افراد کے ساتھ نمازوں کے اہتمام کی اجازت دی جائے گی جس طرح گزشتہ لاک ڈاؤن کے دوران دی گئی تھی ۔ جی او102 کی آڑ میں لاک ڈاؤن کے دوران مساجد کو مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری تھی لیکن مفتیان کرام کے جرات مندانہ شرعی موقف کے اظہار کے بعد مساجد میں محدود تعداد سے نمازوں کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ۔