ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی درخواست، عید کے بعد دستخطی مہم
حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس میناریٹیز ڈپارٹمنٹ نے سکریٹریٹ کی دو مساجد کے انہدام کے خلاف ہر ضلع میں ایف آئی آر درج کرنے کا اعلان کیا ، ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تمام ضلعی صدور اور اقلیتی قائدین سے بات چیت کی ۔ انہوں نے مساجد کے انہدام کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت دی۔ حیدرآباد کانگریس مینارٹیز ڈپاٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبداللہ سہیل نے بتایا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہر ضلع میں اہم مقامات پر سیاہ پرچم لہراتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ سوشیل میڈیا میں مساجد کی بحالی کے حق میں مہم چلائی جائے گی ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مساجد کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ویڈیوز سوشیل میڈیا میں پوسٹ کریں۔ ہر ضلعی صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کریں۔ انہوں نے تلنگانہ وقف بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہدام کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے میں بورڈ ناکام ہوچکا ہے ۔ حالانکہ دونوں مساجد درج اوقاف ہیں۔ عبداللہ سہیل نے مساجد کے مسئلہ پر وزیر داخلہ ، صدر نشین وقف بورڈ اور صدر مجلس کی خاموشی پر تنقید کی ۔ کانگریس پارٹی عیدالاضحی کے بعد مساجد کی دوبارہ تعمیر کے حق میں دستخطی مہم کا آغاز کرے گی۔
