مساوات پر عمل آوری کا اسکولوں سے آغاز کیا جائے : سپریم کورٹ

   

دولتمند اور غریب کے بچے ایک ساتھ کلاس میں ہوں، قانون حق تعلیم پر موثر عمل آوری کی ہدایت
حیدرآباد ۔14 ۔ جنوری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ سماج میں مساوات کا آغاز اسکولوں سے ہونا چاہئے جہاں ایک ملٹی ملینیر یا سپریم کورٹ کے جج کے بچہ کو آٹو رکشا ڈرائیور یا سڑک پر کاروبار کرنے والے شخص کے بچہ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر بیٹھنا چاہئے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی زیر قیادت بنچ نے قانون حق تعلیم سے متعلق مقدمہ میں حکومت کی ذمہ داریوں کو واضح کیا۔ عدالت نے کہا کہ قانون حق تعلیم کے تحت اسکولوں میں کمزور طبقات اور غریبوں کے بچوں کو بھی مساوی طور پر داخلہ ملنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں انصاف اور یکسانیت کے لئے ضروری ہے کہ دولتمند اور غریب دونوں کے بچوں کو داخلہ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ قانون حق تعلیم کی تیاری کافی امیدوں کے ساتھ کی گئی تاکہ اسکولوں میں ذات پات ، مذہب سے بالاتر ہوکر ہر کسی کو تعلیم کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں سماج میں انصاف اسی وقت قائم ہوسکتا ہے ، جب دولتمند یا سپریم کورٹ کے جج کے بچہ کو بھی ایک غریب کے بچہ کے ساتھ بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ دنیش بیواجی نامی شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپنے تلخ تجربات بیان کئے جس میں ان کے پڑوسی اسکول میں ان کے بچہ کو داخلہ سے انکار کیا گیا۔ درخواست گزار نے قانون حق تعلیم 2016 کے تحت مفت داخلہ دیئے جانے کی خواہش کی تھی۔ آر ٹی آئی کے تحت حاصل کردہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ نشستوں کی دستیابی کے باوجود قریبی اسکول میں داخلہ سے انکار کیا گیا۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ قانون حق تعلیم کے علاوہ دستور کی دفعہ 21A کے تحت ہر شہری کو مفت تعلیم کے حق کی فراہمی تک تعلیم کے شعبہ میں یکسانیت کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ اسکولوں میں غریب طلبہ کے داخلہ کو قومی مشن کی طرح عمل کیا جانا چاہئے ۔ حکومت اور مقامی نظم و نسق کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون حق تعلیم پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ عدالت نے کہا کہ اسکولوں میں داخلہ سے محروم خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں۔ قانون حق تعلیم کے تحت کمزور اور غریب طبقات کے بچوں کے لئے 20 فیصد نشستیں مختص کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔1