ڈھاکہ ، 17 جنوری (ایجنسیز) بنگلہ دیش کے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمن نے کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی جانب سے غیر متوقع طور پر ریلیز کیے جانے کے بعد قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں باضابطہ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے اختیارات فراہم کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کو ترجیح دی۔ کرکٹرز ویلفیئر اسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن نے بتایا کہ بین الاقوامی کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز اسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی اور کے کے آر کے فیصلے کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی موجود تھے، کیونکہ مستفیض کو اسکواڈ سے نکالنے کی وجہ کھیل یا انجری نہیں تھی۔ تاہم، کھلاڑی نے ذاتی طور پر کسی بھی قانونی یا انتظامی لڑائی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد سی ڈبلیو اے بی نے بھی احتجاج ترک کر دیا۔ مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل 2026 کیلئے کے کے آر نے 9 کروڑ 20 لاکھ روپئے میں منتخب کیا تھا، لیکن ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے سبب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر فرنچائز کو انہیں اسکواڈ سے خارج کرنا پڑا۔ اس اقدام کے بعد مستفیض آئی پی ایل 2026 میں معاہدہ حاصل کرنے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی نہیں رہے، اور اس سیزن میں کوئی بنگلہ دیشی کرکٹر آئی پی ایل میں حصہ نہیں لے گا۔ اس فیصلے پر بنگلہ دیش میں شدید ردِعمل دیکھا گیا۔ حکومت نے آئی پی ایل کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آئی سی سی سے ہندوستان میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کے مقامات تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔