مستقبل قریب میں کورونا ویکسن کی تیاری کا امکان نہیں

   

Ferty9 Clinic

l عوام کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ زندگی گذارنے کا عادی ہونا ضروری
l امریکی سفیر متعینہ دہلی کی مختلف عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس
حیدرآباد۔19مئی(سیاست نیوز) دنیا کو طویل مدت تک کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گذارنے کی عادت ڈالنی پڑے گی اور مستقبل قریب میں کوئی ٹیکہ کی تیاری کا اعلان ممکن نہیں ہے۔ کورونا وائرسکے ساتھ زندگی گذارنے کیلئے عوام کو احتیاط کرنے اور پر ہجوم مقامات سے دور رہنے کے علاوہ ماسک کے استعمال اور عادات و اطوار میں تبدیلی لانے کے لئے خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اورصفائی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات لازمی کئے جائیں۔ امریکی سفارتخانہ متعینہ دہلی کی جانب سے سی ڈی سی‘ یو ایس اے آئی ڈی کے نمائندوں کے ہمراہ منعقدہ ٹیلی کانفرنس کے دوران یہ بات کہی گئی۔ اس ٹیلی کانفرنس میں امریکی ادارہ سی ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میگھنا دیسائی ‘ امریکی سفرے برائے امور صحت متعینہ ہند ڈاکٹر پریتھا راجا رمن‘ مسز رمونا الہمزوئی ڈائریکٹر یو ایس اے آئی ڈی نے امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اب کورونا کے ساتھ زندگی گذارنے کی عادت ڈالن لینی چاہئے کیونکہ تاحال کوئی ٹیکہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کی توقع ہے بلکہ دنیا بھر میں کئی ممالک کے لیابس میں محققین اس سلسلہ میں تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں تحقیق مختلف مراحل میں ہے۔ ڈاکٹر میگھنا دیسائی نے بتایا کہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے جو اقدامات کئے جانے ہیں ان کے متعلق شعور بیداری ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر پریتھاراجا رمن نے لاک ڈاؤن کے خاتمہ اور رعایتوں کے سبب پیدا ہونے والے حالات اور خدشات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت کے ساتھ سماجی فاصلہ کی برقراری اور صفائی کے ساتھ ساتھ جراثیم کشی کو یقینی بنانے کے اقدامات کو ناگزیر بنایا جانا چاہئے ۔انہو ںنے بتایا کہ ہند ۔ امریکہ اشتراک کے ساتھ کئے جانے والے اہم اقدامات میں ایڈس کی روک تھام‘ ٹی بی کے خاتمہ اور پولیو کے خاتمہ کیلئے کئے جانے والے اقدامات اہم ہیں اور کورونا وائر س کی اس وباء سے نمٹنے کیلئے امریکی ماہرین کی جانب سے گذشتہ 3ماہ کے دوران 3000 طبی عملہ کو تربیت فراہم کرتے ہوئے انہیں کورونا وائرس کے مریضوں سے نمٹنے اور ان کی نگرانی کے علاوہ بنیادی کنٹاکٹ کی جانچ و نشاندہی کے طریقہ کار سے واقف کروایا گیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو میڈیکل شعبہ میں مزید استحکام کی گنجائش موجود ہے اور ہندستان میں موجودصلاحیتوں کا امریکہ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مسز رمونا الہمزوئی نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ہندستان کی بھر پور مدد کی جا رہی ہے تاکہ ہندستان کورونا وائرس کا مقابلہ کرسکے۔ انہو ںنے بتایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے معلنہ وینٹیلیٹرس کی فراہمی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور پہلے مرحلہ میں 50وینٹیلیٹرس روانہ کئے جا رہے ہیں جو کہ اندرون دو ہفتہ ہندستان پہنچ جائیں گے اور امریکہ کی جانب سے جملہ 200 وینٹیلیٹرس کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی جو کہ امریکہ کے تیار کردہ ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی سفارتی عہدیداروں اور سی ڈی سی کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے ہندستانی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ساتھ مل کر کورونا وائرس سے مقابلہ میں ہندستان کی مدد کر رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہندستان میں قرنطینہ کی سہولتوں میں اضافہ اور ان میں بہتری لائی جائے۔ ڈاکٹر میگھنا دیسائی نے بتایا کہ ہندستان میں امریکی سفارتی حکام اور طبی عملہ ضلعی‘ ریاستی اور قومی سطح پر مصروف ہے اور اس با ت کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی بھی طرح سے صورتحال کو معمول پر لانے اور عوام کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے جدوجہد کی جائے۔