حیدرآباد: مستقبل قریب میں موسم گرما تقریباً چھ ماہ تک رہ سکتا ہے۔ اب یہ دیکھا جارہا ہے کہ موسم گرما کا وقت طویل ہوتا جارہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ موسمی تبدیلی ہے جو عالمی حدت، جنگلات کی کٹوائی، سی ایف سی کا حد سے زیادہ اخراج، شہری علاقوں میں تیزی سے اضافہ کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ریسرچرس کا کہنا ہے کہ درختوں پر پھولوں کا جلد آنا موسمی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ اگر لوگ موسمی تبدیلی کو کم کرنے کے سلسلہ میں کوئی کوشش نہیں کریں گے تو مستقبل قریب میں گرما کا موسم چھ ماہ تک رہ سکتا ہے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2100 کے اختتام تک سرما کا موسم زیادہ سے زیادہ دیڑھ ماہ تک رہے گا۔ جہاں تک موسم بارش کی بات ہے یہ ساڑے چار ماہ تک ہوگا۔ جس میں بارش اس سیزن کے صرف نصف مدت میں ہوگی۔ سائنس دانوں کے مطابق ہر موسم چار ماہ تک رہنے کا پیٹرن اب ختم ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسموں میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ دو یا تین دہوں قبل تک موسم گرما میں 40 ڈگری سلسیس درجہ حرارت بہت کم ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ لیکن اب بعض مقامات پر 40 ڈگری درجہ حرارت ایک بالکل عام بات ہوگئی ہے۔ بعض دیگر مقامات پر دن کے درجہ حرارت میں 47 اور 48 ڈگری سلسیس تک اضافہ ہورہا ہے۔ سائنس دانوں نے پیش قیاسی کی کہ مستقبل قریب میں زیادہ سے زیادہ دن کا درجہ حرارت 50 ڈگری سلسیس سے متجاوز ہونے کا امکان ہے۔ ریسرچرس نے اس سلسلہ میں 1952 تا 2011 ، 70 سال کے لیے روزانہ کے ریکارڈس کا تجزیہ کیا اور موجود ماڈلس کی مدد سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی اسٹیڈی کی ہے۔ سائنس دانوں نے انتباہ دیا کہ اگر گرما کا موسم چھ ماہ سے زیادہ تک برقرار رہا تو اس کے تباہ کن نتائج ہوسکتے ہیں۔