مستقبل میں آپ کو آنے والی بیماریوں کو ٹالا جاسکتا ہے

   

جینیاتی تجزیہ کوئی بھی 30 سال عمرکے بعد کرواسکتے ہیں، ڈاکٹر کلیان اور ڈاکٹر ہیما جیوتی سے بات چیت

حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) پیشہ طب گذرتے وقت کے ساتھ انتہائی عصری ہوتا جارہا ہے۔ اس شعبہ میں جو نت نئی دریافتیں اور ایجادات ہورہی ہیں، وہ عقل انسانی کو حیران کردینے والی ہیں۔ حالیہ عرصہ کے دوران پیشہ طب میں جینیٹکس (جینیات سے متعلق علم) اور مالیکولر بیالوجی نے ایک انقلاب برپا کردیا ہے جس کے نتیجہ میں اب دنیا بھر بالخصوص مغربی ممالک میں
Genetic Analysis
جینیاتی تجزیہ کے ذریعہ لوگوں کو بیماریوں کے امکانی خطرات یا جوکھم سے بچایا جارہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ نے تو اس شعبہ میں تحقیق کیلئے 30 ارب ڈالرس خرچ کئے ہیں جبکہ برطانیہ جیسے ملک میں تمام آبادی کے جینیاتی تجزیہ کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جائے کہ وہاں آبادی کا کتنا حصہ شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب، امراض گردہ، امراض پتہ، تنفسی نظام، اعصابی نظام، اخرابی نظام کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے خود ہماری ریاست میں بھی ایک ڈاکٹر جوڑا ڈاکٹر کلیان اپا لوری اور ڈاکٹر ہیما جیوتی چلا عوام میں جینیاتی تجزیہ کے بارے میں نہ صرف شعور بیدار کررہے ہیں بلکہ کے سی آر حکومت سے بھی چاہتے ہیں کہ وہ پیشہ طب میں اس سسٹم کو فروغ دیں جس سے لوگوں کو بیماریوں کے خطرات سے بچایا جاسکے۔ روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر کلیان اپا لوری اور ڈاکٹر ہیما نے بتایا کہ ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور عالمی سطح پر میڈیکل ٹورازم (طبی سیاحت) کے نقشہ پر ہمارے ملک کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان دونوں ڈاکٹرس کا تعلق حیدرآباد سے ہے ، ان لوگوں نے گاندھی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور امریکہ سے انٹرنل میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی اور 15 برس امریکہ میں پریکٹس کی۔ اس دوران
Genomics
سے دونوں واقف ہوئے جو ان کیلئے اور میڈیسن دونوں کیلئے بالکل نیا میدان تھا چنانچہ ڈاکٹر کلیان نے اسٹانفورڈ یونیورسٹی سے مالیکولر بائیولوجی اینڈ کلینیکل جینومکس سوپر اسپیشالیٹی کی تعلیم حاصل کی پھر ڈاکٹر ہیما نے بھی
Genomics
کیا۔ دونوں جان گئے تھے کہ مستقبل میں
Genomics
ہی اہمیت اختیار کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ہیما نے بتایا کہ پرسنلائزڈ میڈیسن دراصل ایک ریگولر میڈیکل پریکٹس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جیومکس، اس میں مریض کے جینیات
Genes
کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسے کونسے امراض کا خطرہ لاحق ہے ۔ اگر آپ کسی کے فنگر پرنٹس دیکھیں تو وہ دوسروں سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔ منفرد ہوتے ہیں۔ کسی کے ایک جیسے فنگر پرنٹ نہیں ہوتے۔ اسی طرح
Genetic Code
بھی منفرد ہوتے ہیں۔جڑواں بچوں میں بھی یہ مختلف ہوتے ہیں لیکن اب مغربی دنیا میں Gene Analysis کے ذریعہ علاج ہورہا ہے اور اس جائزہ کے بعد کئے جانے والے علاج کے مثبت اثرات منظر عام پر آرہے ہیں جبکہ اس کے ذیلی اثرات بھی بہت کم ہیں۔ ڈاکٹر ہیما کے مطابق
Gene
کا جائزہ لے کر آپ مریض کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اس کیلئے کونسی غذا مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ کن غذاؤں سے آپ کا
Metabolism
ٹھیک رہے گا۔ اس سے بیمار ہونے کے امکانات کم ہوں گے یعنی جس بیماری کا جوکھم ہے، اس کا قبل از وقت پتہ چل جائے گا ۔ ڈاکٹر کلیان کے مطابق آئندہ 5 برسوں میں دنیا دیکھے گی کہ تمام قسم کے کینسر میں کیموتھراپی کا رواج ختم ہوجائے گا، اس کی جگہ
Gene Therapy
لے گی۔ ایک اور استفسار پر ڈاکٹر کلیان اپا لوری کا جنہوں نے
Gene Power Rx
قائم کی کہنا تھا کہ آئندہ 5 تا 10 برسوں میں موجودہ ادویات میں سے زیادہ تر ادویات کا استعمال ترک کردیا جائے گا اور علاج و معاملہ
Genes
یا جینیات کو نشانہ بناکر کیا جائے گا۔ فی الوقت عالمی سطح پر جین تھراپی کے 4 آزمائشوں کو کم از کم 270 مراحل چل رہے ہیں اور ڈاکٹر کلیان اور ڈاکٹر ہیما حیدرآباد کو جینومک میڈیسن کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں نے چیف منسٹر کے سی آر کی حکومت اور ٹریپل آئی ٹی جیسے اداروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ کو بتادیں کہ ڈاکٹر ہیما جیوتی چلا
Gene PoweRx
کی شریک بانی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اکثر لوگوں کا علاج بیماری آنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ بیماری کو آنے سے پہلے ہی روکنے پر زور نہیں دیا جاتا یا لوگوں میں شعور بیدار نہیں کیا جاتا، بیماریوں کا مختلف ادویات سے علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔ غذائی عادات و اطوار کی اہمیت و افادیت ہر ڈاکٹر کیلئے جاننا ضروری ہے۔ دراصل
GenepoweRx
ایک صحت مند زندگی کا منصوبہ فراہم کرتا ہے۔ اس کمپنی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اسپتالوں سے معاہدات کر رکھے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں اس طرز کا پہلا سنٹر کھولتے ہوئے عالمی سطح پر تحقیق کے شعبہ میں داخل ہونے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سوالات و دیگر تفصیلات کیلئے فون نمبر 9502222300 پر ربط پیدا کریں۔

SIASAT TV پر
ڈاکٹر کلیان اور ڈاکٹر ہیما جیوتی کا انٹرویو
آج 26 جنوری کو سہ پہر 3:30 بجے
اور رات 10:30 بجے دیکھ سکتے ہیں۔