مالیاتی امور کو فوری بہتر بنانے کے اقدامات ضروری ، سی اے جی کی رپورٹ
حیدرآباد۔31۔مارچ (سیاست نیوز) ریاست کے مالیاتی امور کو بہتر نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ریاست تلنگانہ کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے ریاست کے معاشی امور کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو ریاست کی مالی حالت سے متعلق متنبہ کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا ہے۔حکومت تلنگانہ مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری خزانہ میں محض دو یوم ہی کم از کم بیلنس رکھنے میں کامیاب رہی جبکہ 363 ایام کے دوران سرکاری خزانہ سے جڑے کھاتوں میں کم از کم بیلنس بھی موجود نہیں تھا جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے اوور ڈرافٹ‘ ویز اینڈ مینس اڈوانسڈ‘ کے علاوہ ریزرو بینک کے ذریعہ خصوصی منہائی کے ذریعہ ریاستی امور چلائے گئے ۔ تلنگانہ میں مالی سال 2024-25کے دوران جو مالیاتی اور آمدنی خسارہ ریکارڈ کیاگیا ہے اس کے نتیجہ میں ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر عمل آوری کے لئے وسائل محدودرہے۔ سی اے جی رپورٹ یعنی(کمپٹرولر اینڈ آڈیٹرجنرل ) کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے ۔سرکاری ذرائع اور ماہرین معاشیات کے مطابق مالی سال کے دوران ریاستی حکومت نے 45 فیصد سے زائد بجٹ تنخواہ ‘ سود اور وظائف کی ادائیگی پر خرچ کیا جس کے نتیجہ میں صورتحال انتہائی ابتر رہی۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ مالی سال کے اختتام پر تلنگانہ کو 9420 کروڑ روپئے کا آمدنی خسارہ ریکارڈ کیاگیا جبکہ 48 ہزار 922 کروڑ کا مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ ریاستی حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے معاہدوں کے مطابق ریاستی حکومت کے بینک کھاتہ جو آربی آئی سے مربوط ہیں ان میں کم از کم ایک کروڑ 38 لاکھ روپئے بیلنس رکھا ہوتا ہے لیکن ریاستی حکومت یکم اپریل 2024 تا31مارچ 2025 کے دوران محض دو یوم یہ بیلنس مینٹین کرنے میں کامیاب رہی ۔سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ریاستی حکومت نے 65دن ریاست کے امور کو آر بی آئی کی خصوصی منہائی سہولت SDF کے ذریعہ انجام دیا جبکہ 175یوم ریاستی امور ویز اینڈ مینس اڈوانسڈ WMA کے حصول کے ذریعہ ریاستی امور انجام دیئے گئے ۔مابقی 123دن ریاست کو چلانے کے لئے حکومت تلنگانہ نے اوورڈرافٹ قرض حاصل کیا۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق حکومت نے 363 دن میں خصوصی منہائی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہوئے 27 ہزار 730کروڑ روپئے حاصل کئے جبکہ 298 ایام میں ویز اینڈ مینس اڈوانسس کے ذریعہ 64ہزار 188 کروڑ روپئے حاصل کئے اس کے علاوہ 123 ایام کے دوران حکومت نے اوورڈرافٹ کی سہولت سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے 37ہزار 457 کروڑ روپئے حاصل کئے تھے ۔ 3