مسجد الماس چوٹ اپل کی 423 ایکر اوقافی اراضی پر سرکاری اداروں کا قبضہ

   

مسجد کے روبرو ایم آر او آفس کی تعمیر کی تیاری، کانگریس قائدین کا دورہ اور احتجاج

حیدرآباد۔ شہر کے مضافاتی علاقہ چوٹ اپل میں تاریخی مسجد الماس کے تحت 423 ایکر وقف اراضی پر سرکاری محکمہ جات کا ناجائز قبضہ ہوچکا ہے اور مسجد کے روبرو ایم آر او آفس کی عمارت تعمیر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ناجائز قبضوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر سے مسجد کا راستہ نہ صرف محدود ہوجائے گا بلکہ اسے عملاً غیر آباد کرنے کی سازش ہے تاکہ اوقافی اراضی پر باآسانی قبضہ کیا جاسکے۔ کانگریس کے اقلیتی قائدین نے چوٹ اپل پہنچ کر مسجد اور وقف اراضی کا معائنہ کیا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین، آرگنائزنگ سکریٹری عثمان محمد خاں، متین شریف اور دیگر کانگریس قائدین نے مسجد الماس چوٹ اپل کے مقامی افراد سے ملاقات کرتے ہوئے معلومات حاصل کیں۔ ایک دن قبل ہی ایم آر او اور دیگر عہدیداروں نے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے مارکنگ کی اور کسی بھی وقت کھدائی کے کام کا آغاز ہوسکتا ہے۔ کانگریس قائدین نے افسوس کا اظہار کیا کہ وقف بورڈ کی خاموشی کے نتیجہ میں 423 ایکر اراضی پر سرکاری محکمہ جات نے ناجائز قبضے کرلئے ہیں۔ مقامی افراد کے احتجاج کے باوجود وقف اراضی پر مشن بھگیرتا کے تحت ذخیرہ آب کی تعمیر کا کام مکمل کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ 2011 میں قابضین کو 2113 نوٹسیں وقف بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی تھیں لیکن بعد میں وقف بورڈ اپنی اراضی کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ عثمان محمد خاں اور نظام الدین نے کہا کہ مسجد کے روبرو ایم آر او آفس کی تعمیرکیلئے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ وقف بورڈ سے شکایت کرنے پر عہدیداروں کی ایک ٹیم نے معائنہ کیا لیکن کسی کارروائی کے بغیر واپس ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محمود علی اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو مسجد الماس کا دورہ کرتے ہوئے ناجائز قبضوں کی برخواستگی عمل میں لانی چاہیئے۔ مسجد کے تحت موجود قبرستان کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کئی صنعتی ادارے قائم ہوچکے ہیں۔ وقف بورڈ کا رنگاریڈی انسپکٹر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ چیف منسٹرنے جی او 15 جاری کرتے ہوئے وقف اراضیات کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی ہے اور وہ وقف اراضیات کے تحفظ میں سنجیدگی کا اظہار کرتے ہیں لیکن افسوس کہ حکومت کے ادارے خود چوٹ اپل میں وقف اراضی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ ریوینو ڈپارٹمنٹ جس کا کام وقف اراضی کا تحفظ کرنا ہے اسی نے وقف اراضی پر نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس قائدین نے چوٹ اپل میں بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرنے اور وقف بورڈ کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔