صدر نشین محمد سلیم کا دورہ، مسجد کمیٹی اور مقامی افراد سے بات چیت
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) صدر نشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے آج مسجد دیندار خان سنگاریڈی کا دورہ کرتے ہوئے مسجد کے تحت موجود 104 ایکر اراضی کے تحفظ اور ڈیولپمنٹ کے سلسلہ میں عہدیداروں اور مسجد کمیٹی سے بات چیت کی۔ محمد سلیم نے کہا کہ 104 ایکر اراضی پر موجود ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو اہم کامیابی ملی ہے۔ تحت کی عدالتوں اور وقف ٹریبونل نے وقف بورڈ کے حق میں فیصلہ دیا اور ساری اراضی فی الوقت وقف بورڈ کی تحویل میں ہے۔ وقف بورڈ اس قیمتی اراضی کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرچکا ہے کیونکہ یہ شہر کے مرکزی علاقہ میں کلکٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر کے درمیان واقع ہے۔ انہوں نے مسجد کمیٹی کے عہدیداروں کے ہمراہ شادی خانوں اور مسجد کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی خانہ کو مزید ڈیولپ کرتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ محمد سلیم نے مجوزہ منی حج ہاوز کی اراضی کا معائنہ کیا اور اسے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی۔ مقامی افراد نے ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں محمد سلیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اگر بورڈ کی جانب سے تعاون کیا گیا تو اراضی کو کافی ڈیولپ کرتے ہوئے آمدنی کے ذرائع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کے اداروں سے ہونے والی آمدنی وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مسجد کمیٹی کے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبہ کے ساتھ ان سے رجوع ہوں تاکہ اسے منظوری دی جاسکے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے وقف بورڈ کو زائد اختیارات کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں پولیس اور ریونیو حکام کے تعاون کے ذریعہ کئی اراضیات کا تحفظ کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور اس کے اطراف واکناف موجود قیمتی اراضیات اور جائیدادوں کے تحفظ کیلئے انہوں نے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ وقف انسپکٹرس اور ٹاسک فورس ٹیم قابضین کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرارہے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ ان کی میعاد کے دوران وہ تمام اہم جائیدادوں اور اراضیات کو قابضین سے حاصل کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں بھلے ہی اس کے لئے سینئر وکلاء اور پولیس کی خدمات کیوں نہ حاصل کرنا پڑے۔