مسجد قتل عام : نیوزی لینڈ میں گن قانون مزید سخت

   

Ferty9 Clinic

ویلنگٹن ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ میں جمعہ کے روز ایک نئے قانون کو متعارف کروایا گیا جس کے تحت اب صرف جسمانی اور دماغی طور پر چاق و چوبند (فِٹ) اور مناسب افراد کو ہی گن کا لائسنس مل سکے گا۔ یاد رہیکہ جاریہ سال مارچ میں کرائسٹ چرچ کی مسجد میں کئے گئے دہشت گردانہ حملہ میں ایک آسٹریلیائی جنونی نے 51 مسلمانوں کو شہید کردیا تھا اور اس واقعہ کا وزیراعظم جسنڈا آرڈن نے سخت نوٹ لیتے ہوئے فوجی طرز کے نیم خودکار ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’کالابازار‘‘ میں دستیاب ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگائی جائے گی اور قانون کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ جمعہ کے روز کرائسٹ چرچ میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آتشیں اسلحہ رکھنا ایک اعزاز کی بات ہے اور اسے اپنا حق سمجھنا غلط ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے، دیانتدار اور جسمانی و ذہنی طور پر چاق و چوبند (فِٹ) افراد ہی گن کا لائسنس حاصل کرنے کے اہل ہوں گے جس کیلئے ایک رجسٹری بھی قائم کی جائے گی۔
علاوہ ازیں غیر لائسنس یافتہ افراد کو آتشیں اسلحہ سربراہ کرنے والوں کی سزاء کو تین ماہ سے بڑھا کر دو سال کر دیا گیا ہے۔ لائسنس کی اجرائی سے قبل پولیس لائسنس درخواست گزار کا اچھی طرح معائنہ کرے گی اور یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں ہے یا پھر اس نے ماضی میں کبھی اقدام خودکشی تو نہیں کیا وغیرہ۔ وزیراعظم کے ان سخت فیصلوں سے نیوزی لینڈ میں گن کلچر پنپنے کے امکانات موہوم ہوجائیں گے۔