مسجد میاں مشک پرانا پل کا مینار لاپرواہی کا شکار

   

تزئین نو کے لیے بجٹ کی منظوری کے باوجود عدم اجرائی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تین صدیوں پرانی میاں مشک مسجد پرانا پل کے صحن میں کئی ورثے کے مقبرے لاپرواہی کا شکار ہیں جو قطب شاہی دور کے ایک منفرد طرز تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں اور میاں مشک کو 1680 اور 1682 کے درمیان تعمیر کئے تھے ۔ قدیم ہونے کی وجہ سے پانی کا اخراج اور دیواروں اور چھتوں پر بڑھتے ہوئے پودوں کی وجہ سے خراب حالت میں ہیں اس مقبرے کے علاوہ مقبرہ ، داخلی محراب اور حمام خانہ کو بھی بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ حمام مسجد کے احاطے میں ایک علحدہ عمارت جو کبھی فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا تھا اور سرائے ، ریاست کے مختلف حصوں سے آنے والوں کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کرتا تھا ۔ آج دونوں خستہ حالت میں ہیں ۔ مقبرہ کا مینار 10 دن قبل گر گیا ۔ خستہ حالی کی نمائندگی پر عہدیداروں نے مسجد کا دورہ کیا اور تخمینہ کے بعد 2.3 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا ۔ تاہم جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ مورخ ڈاکٹر دیوان پلی ستیہ نارائنا نے کہا کہ یہ مسجد 1680 اور 1682 کے درمیان میاں مشک نے بنائی تھی جو حبشہ سے تعلق رکھتے تھے اور قطب شاہی سلطنت میں تاناشاہ کے دور میں چابیوں کے رکھوالے کے طور پر کام کرتے تھے ۔ یہ اپنی عربی خطاطی کے لیے مشہور ہے جہاں قرآن اور حدیث کی آیات دیکھی جاسکتی ہیں ۔ محکمہ ثقافتی ورثہ کی لاپرواہی کے نتیجہ میں شہر اور اس کے ارد گرد بہت سی محفوظ یادگاریں خستہ حالی کا شکار ہورہی ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ قدیم یادگاروں کی حفاظت پر فوری توجہ دیں ۔۔ ش