مسجد کیلئے پانچ ایکر زمین قبول نہیں کی جانی چاہئے

,

   

سنی سنٹرل وقف بورڈ ملک کے تمام مسلمانوںکا نمائندہ نہیں، مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان

لکھنؤ ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سنی وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ ایودھیا بابری مسجد اراضی ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کے حصہ کے طور پر مسجد کیلئے اترپردیش حکومت نے جو اراضی الاٹ کی ہے، اسے مسترد کردے۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے آج پانچ ایکر اراضی کو الاٹ کیا ہے۔ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے مسجد کیلئے اراضی دینے کا حکم دیا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ بورڈ نہیں چاہتا کہ وقف بورڈ اس اراضی کو اپنے قبضہ میں لے لیں۔ مسجد کیلئے جو جگہ دی گئی ہے وہ درست نہیں ہے۔ ہمیں پانچ ایکر کی اراضی قبول نہیں کرنی چاہئے۔ تاج محل کے مقام پر بھی اراضی دینے کا وعدہ کیا گیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ بعض لوگ مسجد کیلئے اراضی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ 65 ایکر متنازعہ مقام کے اندر ہی اراضی دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ جہاں بابری مسجد تھی وہیں پر دوبارہ تعمیر ہونی چاہئے۔ ہم کامپلکس کے اندر بھی اگر کوئی اراضی دی جاتی ہے تو ہم اس کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی بابری مسجد کی اراضی میں تبدیلی لائیں گے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کو یہ اراضی مسترد کردینی چاہئے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج کہا کہ سنی سنٹرل وقف بورڈ تمام مسلمانوں کا نمائندہ بورڈ نہیں ہے۔ اگر وہ اترپردیش حکومت کی جانب سے مسجد کی تعمیر کیلئے ایودھیا کے دھانی پور گاؤں میں الاٹ کردہ پانچ ایکڑ اراضی کو قبول کرتا ہے تو اس کو ملک کے تمام مسلمانوں کا فیصلہ تصور نہیں کیا جائے گا۔ بورڈ کے رکن عاملہ مولانا یٰسین عثمانی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس سے وابستہ تمام نے ایودھیا میں کوئی اراضی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوپی کابینہ نے آج ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کیلئے سنی سنٹرل وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ اراضی الاٹ کی ہے۔ سنی وقف بورڈ کے چیرمین ظفرفاروقی تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا یہ اراضی لی جائے یا نہیں۔ آج حکومت کی جانب سے اراضی الاٹ کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرنے سے بھی سنی بورڈ نے پس و پیش کیا۔ بتایا جاتا ہیکہ بورڈ کا 24 فبروری کو اجلاس منعقد ہوگا جس میں اس معاملہ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ فاروقی نے کہا کہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے سرکاری رقم کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمان اتنے فقیر نہیں ہیکہ وہ مسجد تعمیر کرنے کی ضرورتوں کو پورا نہ کرسکے۔ مسلمانوں کے پاس مسجد کی تعمیر کیلئے خاطرخواہ پیسہ ہے لیکن یہاں پر سوال انصاف کا ہے۔ مسلمانوں کے حق میں انصاف ہونا چاہئے۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی نے کہا کہ اگر اراضی دی جاتی ہے تو اس مقام پر ایک اور رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔

بابری مسجد کی جگہ سے دستبرداری ناممکن
٭ جمعیتہ العلمائے ہند ے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ بابری مسجد کی جگہ سے دستبرداری ناممکن ہے۔ بابری مسجد قانون اور عدل و انصاف کی نظر میں ایک مسجد تھی اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے۔ رام مندر بنانے کیلئے ایک ٹرسٹ بنائے جانے اور پانچ ایکر اراضی مسجد کیلئے الاٹ کرنے کے فیصلہ کے بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بابری کی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ قبول نہیں کی جائے گی۔