محمود علی سے استعفیٰ کا مطالبہ ، مسلم تنظیموں کی خاموشی پر تنقید ، کانگریس کی جانب سے عنقریب احتجاجی لائحہ عمل : محمد علی شبیر
کاماریڈی : سابق ریاستی وزیر سینئر کانگریس قائد نے آج یہاں کاماریڈی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسجد خواجہ محمود کو شہید کرنے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی بربریت کے خلاف خاموش تماشائی رہنے والی مجلس اور ان کے اشارے پر کام کرنے والے تنظیموں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسجد خواجہ محمود کو شہید کرنے سے قبل علاقہ کے تمام مکانوں کے کنڈے لگادئیے گئے اور برقی منقطع کردی گئی اور بڑے پیمانے پر پولیس کو تعینات کرتے ہوئے مسجد میں موجودہ مقدس قرآن اور جائے نمازوں کو ہٹایا نہیں گیا اور بلڈوزوروں سے مسجد کو شہید کردیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسجد کو شہید کرنے کی اطلاع پر کانگریس پارٹی نے وفد کو بھی روانہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا ہے ۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی پارلیمانی اجلاس میں شرکت کیلئے دہلی گئے ہوئے ہیں ان کی واپسی کے بعد اس خصوص میں ایک لائحہ عمل طئے کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ کے رکن اسمبلی ، رکن پارلیمنٹ مسلمان ہیں ہندوستان بھر میں کوئی بھی مسجد کو شہید کیا گیا خاص طور سے نارتھ کے علاقہ میں مسجد کے مسئلہ پر بڑے پیمانے پر بیان بازی کی جاتی ہے اور یہاں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ محمد علی شبیر نے وزیر داخلہ محمود علی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر پولیس کی کارروائی کی گئی اور محمود علی خاموش تماشائی بنے رہے ۔ 8 سالوں میں 7 مساجد کو شہید کیا گیا اس دوران ان کی خاموشی بھی معنی خیز ہے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ محمود علی سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ۔ معمولی واقعہ پر حکومت سیکوریٹی فراہم کرنے سے ٹال مٹول کرتی ہے اور عملہ دستیاب نہیں کہہ کر مسئلہ کو ٹال دیتی ہے اور یہاں پر 300 پولیس کانسٹیبل کو تعینات کیا گیا تھا یہ واقعہ چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔ وزیر داخلہ اس بارے میں وضاحت نہیں کرسکتے ہیں تو اپنا استعفیٰ پیش کریں ، یہ کس کے دبائو میں کیا گیا ؟ کیا کے ٹی آر ملوث ہے ؟ کیا چیف منسٹر کی ملی بھگت سے کیا گیا ہے وضاحت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 8 سال کے دوران 7 مساجد کو شہید کیا گیا جس میں سکریٹریٹ کے مساجد بھی شامل ہے ۔ اور جو مسجد تعمیر کی کی جارہی ہے سکریٹریٹ میں دوسرے مقام پر تعمیر کی جارہی ہے جب کبھی بھی مساجد کی شہادت پر احتجاج کیا جاتا ہے تو اسی مقام پر بنانے کا اعلان کرتے ہوئے خاموش کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مسلم پرسنل لاء ، مشائخین ، اکابرین ، مسلم سیاسی قائدین و دیگر کی خاموشی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسد الدین اویسی کی ہدایت پر ہی یہ افراد اپنی زبان کھولیں گے ؟ ورنہ جب تک خاموشی اختیار کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے تحفظ کی ذمہ داری علماء ، مشائخین کی بھی برابر کی ہے ۔ کانگریس پارٹی اس خصوص میں لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کرے گی ۔