مسلم سیاسی اور مذہبی قائدین بیان بازی تک محدود، سرکاری عہدے چھوڑنے کوئی تیار نہیں
حیدرآباد۔16 ۔ جولائی (سیاست نیوز) عنبر پیٹ میں مسجد یکخانہ کی شہادت کا غم ابھی تازہ تھا کہ کتہ گوڑم میں جنگلات کے عہدیداروں نے ایک اور مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہید کردیا۔ ملک کے واحد سیکولر قائد ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے سی آر کی حکومت مساجد کی شہادت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے مسجد یکخانہ کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے باقاعدہ تحریک چلائی لیکن صرف تیقنات کے سواء کچھ نہیں ملا۔ مسجد یکخانہ کی شہادت کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن دوبارہ تعمیر توکجا وہاں نماز کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ مسجد کے مسئلہ کو اسی طرح ٹال کر حکومت وہاں فلائی اوور برج تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ دو ماہ کے عرصہ میں دو مساجد کی شہادت پر مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ صرف اجلاس اور احتجاجی بیانات کی اجرائی کے سواء کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا جس سے کہ حکومت پر دباؤ بنایا جاسکے۔ حکومت میں شامل مسلم نمائندوں کو بھی مسجد کی بازیابی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کتہ گوڑم سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے وفد کو وزیر داخلہ نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ اس سے قبل مسجد یکخانہ کے مسئلہ پر انہوں نے دوبارہ تعمیر کا یقین دلایا تھا۔ عام مسلمانوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ مسجد کی شہادت جیسے حساس مسئلہ پر بھی مذہبی اور سیاسی قیادت بے حس ہے۔ کسی ایک شخص نے بھی پارٹی اور حکومت کے عہدہ کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوک سبھا اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے والی جماعتوں کو مختلف سرکاری اداروں میں عہدے دیئے گئے لیکن مسجد کے مسئلہ پر بھی کسی میں اتنی ایمانی حرارت نہیں کہ وہ عہدہ سے استعفیٰ دے دے۔ اجلاسوں اور احتجاجی بیانات پر اکتفا کرنے والے قائدین سے عوام سوال کر رہے ہیں کہ اگر واقعی مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج درج کرانا ہو تو اپنے عہدوں کے قربانی دینی ہوگی۔ برسر اقتدار پارٹی میں شامل مسلم قائدین ہوں یا پھر حکومت کی تائید کرنے والی تنظیمیں جنہیں بھی سرکاری عہدے دیئے گئے وہ عہدوں سے چمٹے رہنے کے بجائے دونوں مساجد کی بازیابی کیلئے استعفیٰ کا اعلان کردیں۔ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعہ حکومت پر حقیقی معنوں میں دباؤ بنایا جاسکتا ہے ورنہ مسلمانوں کی نظر اجلاس اور احتجاجی بیانات محض دکھاوے کے سوا کچھ نہیں۔ یونائٹیڈ مسلم فورم کے صدر کو اردو اکیڈیمی کی صدارت اور اس میں شامل تنظیم تعمیر ملت کے ایک ذمہ دار کو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی رکنیت دی گئی۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار کو وقف بورڈ کا رکن مقرر کیا گیا۔ عام مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ مسلم تنظیموں کو حکومت کے ساتھ مفاہمانہ موقف کے بجائے دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تاکہ دونوں مساجد کی بحالی کے علاوہ گزشتہ پانچ برسوں میں مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ ورنہ مسلمانوں میں یہ پیام جائے گا کہ عہدوں کی اہمیت مسلمانوں کے ملی مسائل سے زیادہ ہے۔
