مسعود اظہر اور ہندوپاک کشیدگی قریشی اور وانگ بات چیت کے اہم موضوعات

   

l عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل نہ کرنا محض ایک تکنیکی رکاوٹ
l باہمی مشاورت کے ذریعہ مسئلہ کا حل ممکن

بیجنگ ۔ 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ چینی وزیرخارجہ وانگ یی اور ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے درمیان ہونے والی پہلی حکمت عملی بات چیت کے دوران ہندوستان میں جموں و کشمیر کے پلوامہ ڈسٹرکٹ میں ہوئے دہشت گرد حملہ کے بعد ہندوپاک کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کا موضوع بھی زیربحث آئے گا۔ یاد رہیکہ محمود قریشی چین کا دورہ کررہے ہیں جبکہ کچھ روز قبل ہی چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے جیش محمد سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی راہ میں چوتھی بار رکاوٹ پیدا کی تھی۔ چین نے اس تجویز کو فی الحال تکنیکی بنیاد پر مسدود کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جسے ہندوستان نے مایوس کن قرار دیا۔ 14 فبروری کو کئے گئے دہشت گردانہ حملہ میں 40 سے زائد سی آر پی ایف جوان شہید ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری جیش محمد نے لی تھی جس کے بعد ہندوپاک کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ برصغیر پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ اس موقع پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی چین کے پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا چین کی اولین ترجیح ہے جس کا سب سے آسان طریقہ بات چیت ہے تاکہ خطہ میں امن و امان اور استحکام پیدا ہو۔ گینگ شوانگ نے کہا کہ حکمت عملی بات چیت کے دوران خطہ میں کشیدگی کا موضوع بھی زیربحث آئے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا معاملہ بھی زیربحث آئے گا، خصوصی طور پر ایک ایسے وقت جب چینی سفیر متعینہ ہندوستان لو ژاہوئی نے یہ امید ظاہر کی ہیکہ اس مسئلہ کی یکسوئی بھی کرلی جائے گی، گینگ شوانگ نے کہا کہ وہ پہلے سے اس بات کی پیش قیاسی نہیں کرسکتے کہ کونسا موضوع زیربحث آئے گا اور کونسا نہیں۔ تاہم یہ بات بالکل یقینی طور پر کہی جاسکتی ہیکہ دورخی، علاقائی اور بین الاقوامی امور زیربحث آئیں گے۔ جہاں تک مسعود اظہر کا سوال ہے تو اس سلسلہ میں چین ذمہ دارانہ اور تعمیری انداز میں پیشرفت کرتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ تمام فریقین بشمول ہندوپاک کے ساتھ قریبی رابطہ میں رہے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ لوژاہوئی نے اتوار کے روز انتہائی پُراعتماد لہجہ میں کہا تھا کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے معاملہ کو باہمی مشاورت کے ذریعہ حل کرلیا جائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہیکہ چین رکاوٹیں پیدا کررہا ہے تو یہ غلط فہمی ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی رکاوٹ ہے جسے باہمی مشاورت کے ذریعہ بہت جلد حل کرلیا جائے گا۔ چینی سفارتخانہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر لو نے یہ بات بتائی جبکہ پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ شاہ محمود قریشی اپنے تین روزہ دورہ چین کے موقع پر دورخی تعلقات بشمول چائنا۔ پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔