حیدرآباد ۔ 4 ستمبر (سیاست نیوز) شہر میں جاری بارش کے سلسلہ سے پرانے شہر میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ پرانے شہر کے علاوہ گذشتہ سال بارش سے شدید متاثرہ علاقوں کی عوام دوبارہ اس خوف کا شکار ہوگئے ہیں۔ استطاعت کے باوجود سرکاری مشنری اور عوامی نمائندوں کی مبینہ کوتاہیوں کے سبب امدادی اشیاء پر انحصار کرنا پڑا تھا اور اب جاری بارش کے سلسلہ و موسلادھار بارش سے اس طرح کا خوف شہریوں میں پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایک طرف بڑے نالوں کی مرمت کے کام جاری ہیں تو دوسری طرف برساتی پانی کے بہاؤ کا مؤثر انتظام نہ ہونے سے کالونیاں اور بستیاں جھیل میں تبدیل جاتی ہیں۔ املاک سازوسامان، گاڑیوں کے علاوہ جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بالخصوص یاقوت پورہ حلقہ کے علاقوں میں عوام خوف میں مبتلاء ہوگئے ہیں۔ رین بازار، سنتوش نگر اور دبیرپورہ ڈیویژنس میں سڑکیں پانی کے کنٹوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ 2020 اکٹوبر میں ہوئی بارش کے سبب تباہ شدہ سڑکیں بلدیہ کی لاپرواہی کا شکار ہیں۔ ان سڑکوں پر بلدیہ کی مجرمانہ غفلت کے سبب کوئی کام نہیں ہوا۔ مادنا پیٹ منڈی کی سڑک کا کام سنتوش نگر چوراہے روڈ سے چمپاپیٹ جانے والی سڑک مادنا پیٹ واٹر ٹینک کے قریب سنتوش نگر اسپورٹس روڈ کی دیکھ بحال کی ذمہ داری خانگی ایجنسی کے حوالے کی گئی ہے۔ رین بازار علاقہ کی بستیوں میں اکثر نالے کے پانی کے سبب خوف پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں بستیاں نالے کے قریب پائی جاتی ہیں جس کے سبب عوام میں خوف و دہشت پیدا ہوگئی ہے۔ گنگانگر بستی میں قدم رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ تالاب چنچلم ڈیویژن کی بستیوں میں ذرا سی بارش کے سبب کیچڑ جمع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بھوانی نگر، چاچاگیاریج، عیدی بازار سے چارمینار جانے والی سڑک دلدل کی شکل اختیار کرگئی ہیں۔ ان علاقوں میں جاریہ بارش کے سبب بہت زیادہ چوکسی اور بلدی اقدامات کی ضرورت ہے۔ A