پرانے اور کمزور خیمے تیز ہواؤں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، پناہ گاہوں میں روزمرہ کی بنیادی ضروریات کی قل
غزہ ، 28 دسمبر (یواین آئی) خراب موسمی حالات اور مسلسل بارش نے جنوبی غزہ میں بے گھر افراد کی پریشانیوں کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ اسی دوران اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا، جہاں فضائی حملوں اور شدید گولہ باری کے باعث دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ پناہ گاہوں کی کمی اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات کی قلت کے باعث متاثرہ خاندانوں کی مشکلات دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق بے گھر علاقوں میں انسانی حالات اس وقت شدید خراب ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے شدید طوفانی بارش اور تیز ہواؤں کے دوران مدد کی اپیلیں جاری ہیں۔ سول ڈیفنس نے مزید کہا کہ پرانے اور کمزور خیمے تیز ہواؤں کا مقابلہ نہیں کر سکے ، جس سے بہت سے خیمے پھٹ گئے اور کچھ مکمل طور پر اکھڑ گئے ، جس کی وجہ سے درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے ، جبکہ پناہ گاہ کے بنیادی ذرائع بھی موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیمیں محدود وسائل اور آلات کی کمی کے باوجود کام کر رہی ہیں، انسانی حالات انتہائی مشکل ہیں، انہوں نے بین الاقوامی ور انسانی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی بحران مزید نہ بڑھ سکے ۔ ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ غزہ میں بے گھر افراد کے بہت سے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کچھ خیموں میں سمندر کا پانی داخل ہو گیا، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں۔غزہ کے میونسپلٹی یونین نے خبردار کیا کہ بیماریوں کے پھیلنے اور صحت کی صورتحال خراب ہونے کا خطرہ ہے ، کیونکہ اسرائیل نے بنیادی سہولیات کے لیے ضروری سامان کی کافی مقدار داخل نہیں ہونے دی۔ میونسپلٹی یونین نے ہفتے کی شام جاری بیان میں کہا کہ انہیں ”شدید ایندھن کی کمی” کا سامنا ہے ، جس نے شہریوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر براہ راست اثر ڈالا، خاص طور پر ہنگامی حالات اور سردیوں میں۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور سیوریج پمپس کا کام نہ کرنے کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلنے اور صحت کی عمومی صورتحال خراب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
