نئی دہلی : آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے جملہ ارکان کا کل رات ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور نظامت مولانا محمدفضل الرحیم مجددی، جنرل سکریٹری نے کی۔اس میں کہا گیا کہ مسلمانوں اور تمام انصاف پسند افراد کو وقف بل کی مخالفت کرنی چاہئے ۔آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق اس ہنگامی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔ ارکان نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا کہ وقف بل پر تمام متعلقہ افراد کو کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ البتہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ چیرمین پارلیمانی کمیٹی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں ہی سے رائے اور مشورہ طلب کریں کیونکہ مسلمانوں سے متعلق ہی یہ مسئلہ ہے ، بورڈ کی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو ای میل یا ڈاک کے ذریعہ یہ جواب بھیجیں کہ وقف تر میمی بل کی تقریبا تمام ترمیمات وقف ایکٹ 1995 کو کمزور اور وقف املاک کے قبضے کی راہ ہموار کرتی ہیں، لہذا ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کر تے ہیں کہ حکومت اسے فی الفور واپس لے لے ۔بورڈ مسلمانوں کی تمام دینی و ملی جماعتوں، اداروں، تمام مکاتب فکر و مسالک سے وابستہ ذمہ دار افراد و شخصیات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ 12؍ستمبر 2024 سے قبل اس کام کو ضرور کروالیں۔تحریری میمورنڈم/ مشورے کی دو کاپیاں انگریزی یا ہندی میں جوائنٹ سکریٹری ( جے ایم) لوک سبھا سکریٹریٹ، روم نمبر 440، سنسدیہ سوندھ، نئی دہلی- 110001، ٹیلیفون نمبرز23034440 /23035284 فیکس نمبر23017709 کو بھیج سکتے ہیںاور اس اشتہار کی تاریخ سے 15 دنوں کے اندر [email protected] پر ای میل کرسکتے ہیں۔
طے کیا گیا کہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں بورڈ کی جانب سے اوقاف کے مسئلہ پر کانفرنسوں اور احتجاجی جلسوں کا اہتمام کیا جائے گا، جن میں اوقاف کی شرعی حیثیت، اہمیت و ضرورت، در پیش خطرات اور تحفظ کے اقدامات پر گفتگو کی جائے گی۔