مسلمانوں اور دلتوں کی ترقی میں کے سی آر اہم رکاوٹ: محمد علی شبیر

   

۔ 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کا مطالبہ، ریاست کے برقی ادارے بحران کا شکار
حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک سکے کے دو رخ ہیں لہذا مسلمانوں اور دلتوں کی ترقی کو برداشت نہیں کریں گے۔ کانگریس پارٹی کے دو روزہ ٹریننگ کیمپ سے اقلیتوں کے مسائل اور ریاست میں برقی کی صورتحال کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کو مسلمانوں اور دلتوں سے نفرت ہے اور وہ ان طبقات کی ترقی اور ان سے وابستہ افراد کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے خلاف ہیں۔ قانون ساز کونسل میں مجھے قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم کرنے کیلئے کانگریس کے چار ارکان کونسل کو میعاد کی تکمیل سے پانچ ماہ قبل ٹی آر ایس میں شامل کرلیا۔ کے سی آر نے کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے انحراف کے ذریعہ دلت قائد بھٹی وکرامارکا کو اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کے عہدہ سے محروم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سے نوازیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حالیہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ محمد علی شبیر کے مشورہ پر دلت کو چیف منسٹر نہیں بنایا ہے۔ چیف منسٹر کے دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ 2014 میں آخری مرتبہ کے سی آر نے ان سے ربط قائم کرتے ہوئے چیف منسٹر کے عہدہ کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجلس بالواسطہ طور پر کے سی آر اور مودی کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمان 12 فیصد مسلم تحفظات سے انحراف ، سکریٹریٹ کی دو مساجد کے بشمول جملہ 6 مساجد کے انہدام پر کے سی آر کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر حکومت کی بدانتظامیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ میں برقی ادارے خسارہ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ریاست کو برقی شعبہ میں خودمکتفی بنادیا تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے جینکو، ٹرانسکو اور ڈیسکامس کو بحران میں مبتلاء کردیا ہے۔ چھتیس گڑھ اور مختلف کمپنیوں سے برقی خریدی جارہی ہے۔ر